مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فَرَّ مِنْ عَبِيدِ أَهْلِ الْحَرْبِ إِلَى الْمُسْلِمِينَ وَأَسْلَمَ وَمَوْلَاهُ كَافِرٌ . باب: اہل حرب کے قیدیوں سے تعلق رکھنے والے اس شخص کا بیان جو فرار ہو کر مسلمانوں کی طرف آ کر اسلام قبول کر لیتا ہے ، اور اس کا آقا کافر ہوتا ہے
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي فُلَانٌ الثَّقَفِيُّ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ ؛ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكَرَةَ ، وَكَانَ مَمْلُوكًا فَأَسْلَمَ قَبْلَنَا وَقَالَ : " لَا ، هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : فلاں ثقفی نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کے بارے میں درخواست کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہمیں کسی کے بارے میں بھی رخصت نہیں دی ، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں واپس کر دیں ، کیونکہ وہ پہلے غلام تھے اور وہ ہم سے پہلے اسلام لے آئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کردہ ہے ، اور پھر اس کے بعد اللہ کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔