حدیث نمبر: 7268
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا ، فَقُلْنَا : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهْرِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكَرَةَ فَأَبَى وَقَالَ : " هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ " . وَكَانَ أَبُو بَكَرَةَ خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی نے ، ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین درخواستیں کیں لیکن آپ نے ہمیں رخصت نہیں دی ، ہم نے عرض کی : ہماری سرزمین ٹھنڈی سرزمین ہے ، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت عطا کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی ، ہم نے آپ سے یہ گزارش کی کہ آپ ہمیں دباء استعمال کرنے کی رخصت دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں واپس کریں ، تو آپ نے یہ بات بھی تسلیم نہیں کی ، آپ نے فرمایا : وہ اللہ کے نام پر آزاد ہے اور اس کے رسول کے نام پر آزاد ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اس وقت نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7268
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف