مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ عِتْقِ الْأَخْيَارِ . باب: نیک لوگوں کو آزاد کرنا
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ الْمُتَوَضَّأَ فَأَصَابَ لُقْمَةً - أَوْ قَالَ : كِسْرَةً - فِي مَجْرَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى فَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى غُلَامِهِ ، فَقَالَ : يَا غُلَامُ ذَكِّرْنِي بِهَا إِذَا تَوَضَّأْتُ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ لِلْغُلَامِ : يَا غُلَامُ نَاوِلْنِي اللُّقْمَةَ - أَوْ قَالَ : الْكِسْرَةَ - . قَالَ : يَا مَوْلَايَ أَكَلْتُهَا ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ ! فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ : يَا مَوْلَايَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَعْتَقْتَنِي ؟ قَالَ : لِأَنِّي سَمِعْتُ مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذْكُرُ عَنْ أَبِيهَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ لُقْمَةً أَوْ كِسْرَةً مِنْ مَجْرَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى وَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا ، ثُمَّ أَكَلَهَا لَمْ تَسْتَقِرَّ فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ " . فَمَا كُنْتُ لِأَسْتَخْدِمَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ عِيسَى بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا امام حسن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ وضو کی جگہ پر داخل ہوئے ، وہاں انہیں ایک لقمہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک ٹکڑا ملا ، جو پاخانے یا پیشاب کے بہنے کی جگہ پر پڑا ہوا تھا ، انہوں نے اسے لیا اس سے گندگی کو صاف کیا ، اسے اچھی طرح سے دھویا ، پھر وہ اپنے غلام کو دیا اور فرمایا : اسے غلام ! جب میں وضو کر لوں گا ، تو یہ مجھے یاد کروا دینا ، جب آپ نے وضو کر لیا ، تو آپ نے غلام سے کہا: اے غلام ! وہ لقمہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ ٹکڑا مجھے پکڑاؤ ! تو اس نے عرض کی : اے میرے آقا ! میں نے اسے کھا لیا ہے ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ ! تم اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہو ، غلام نے ان سے کہا: اے میرے آقا ! آپ نے مجھے کسی وجہ سے آزاد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے اپنے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو شخص کوئی لقمہ ، یا ٹکڑا ، پاخانہ یا پیشاب کی جگہ پر پڑا ہوا پائے ، پھر اسے لے کر اس سے گندگی کو صاف کر کے اسے اچھی طرح سے دھو لے ، پھر اس کو کھا لے ، تو وہ لقمہ اس کے پیٹ میں ٹھہرنے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔ ( امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں کسی جنتی شخص سے خدمت نہیں لوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عیسیٰ بن سالم کے حوالے سے وہب بن عبدالرحمن قریشی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔