مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ وَإِنْ كَثُرَ . باب: نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنا خواہ وہ ( سوالات ) زیادہ ہی کیوں نہ ہوں
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا ، وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ فَأَقْصَرُوا عَنْهُ ، حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " قُمْ فَصَلِّ " ، فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ( شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ) " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ . قَالَ : " قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قُلْتُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ ، فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ، أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَا هِيَ ؟ قَالَ : " خَيْرٌ مَوْضُوعٌ ، مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ ، وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ مَاذَا هُوَ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ مَا هِيَ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ ، وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) آيَةَ الْكُرْسِيِّ " . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سُفِكَ دَمُهُ ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ " قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا ، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ مِنْ رُوحِهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : يَا آدَمُ ، قَبِلًا " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَمْ عَدَدُ الْأَنْبِيَاءِ ؟ قَالَ : " مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ [ أَلْفًا ] ، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : كَمْ عَدَدُ الْأَنْبِيَاءِ ؟ قَالَ : " مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا " . ¤ وَمَدَارُهُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے ، لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب نہیں کیا ، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم نے آج ( نفل ) نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اُٹھ کر نماز ادا کر لو ! جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے چاشت کی نماز کی چار رکعات ادا کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! جنات اور انسانوں کے شیاطین سے ، اللہ کی پناہ مانگو ! سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی طرف بنا سنوار کر دھوکے کا شکار کرنے والی باتیں دل میں ڈالتے ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں جو جنت کے خزانوں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم «لا حول ولا قوة الا بالله» پڑھا کرو ! میں نے کہا: «لا حول ولا قوة الا بالله» راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں آپ کے کلام کے انتظار میں رکا رہا ، پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ، نماز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک بہترین چیز ہے ، جو شخص چاہے وہ اسے تھوڑا حاصل کرے اور جو چاہے وہ زیادہ حاصل کر لے ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! روزے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ایک فرض ہے ، جو جزا دلاتا ہے ( یا کفایت کر جاتا ہے ) میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! صدقہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( وہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کا بدلہ ) کئی گنا ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مزید ( اجر و ثواب بھی ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی غریب کو پوشیدہ طور پر کچھ دینا ، یا کسی تنگ جس شخص کا مزدوری کر کے ( صدقہ دینا ) میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ پر سب سے عظیم کون سی ( آیت نازل ہوئی ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «الله لا اله الا هو الحی القیوم» یعنی آیت الکرسی ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سا شہید زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سے غلام ( کو آزاد کرنا ) زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو اپنے مالکان کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سے نبی سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ایک ایسے نبی تھے جن کے ساتھ کلام کیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست مبارک کے ذریعے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح کو پھونک دیا ، پھر اُن سے فرمایا : اے آدم ! سامنے کی طرف ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! انبیاء کرام کی تعداد کتنی تھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ، اور اُن میں سے رسولوں کی تعداد 315 تھی ، جو ایک بڑی تعداد ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ) انبیاء کرام کی تعداد کتنی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ۔ اس روایت کی سند کا مدار ، علی بن یزید نامی راوی پر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔