حدیث نمبر: 726
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ صَلَّيْتَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " قُمْ فَصَلِّ " . قَالَ : فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " خَيْرٌ مَوْضُوعٌ ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ ، وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصَّوْمُ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَنَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ الْمُرْسَلُونَ ؟ قَالَ : " ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا " ، وَقَالَ مَرَّةً : " خَمْسَةَ عَشَرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آدَمُ نَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مُكَلَّمٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " آيَةُ الْكُرْسِيِّ ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤ وَفِي طَرِيقِ الطَّبَرَانِيِّ زِيَادَةٌ تَأْتِي فِي بَابِ التَّارِيخِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے ، میں بیٹھ گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم نے ( نقل ) نماز ادا کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! آپ نے فرمایا : تم اُٹھ کر نماز ادا کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُٹھ کر نماز ادا کر لی ، پھر جب میں بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! تم انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز ؟ آپ نے فرمایا : وہ بہترین چیز ہے ، جو شخص چاہے وہ تھوڑی کر لے ، جو چاہے ، وہ زیادہ کر لے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزه ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک فرض ہے جو کفایت کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مزید ( اجر و ثواب ) ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اُس کا اجر و ثواب ) کئی گنا ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا ( صدقہ ) افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تنگ دست شخص کا مشقت کر کے ( صدقہ کرنا ) یا کسی غریب کو پوشیدہ طور پر دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سے نبی سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ نبی تھے ، جن کے ساتھ کلام کیا گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : 310 سے کچھ زیادہ جو بڑی تعداد ہے ۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : 315 ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اُن کے ساتھ کلام کیا گیا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سب سے بڑی آیت کون سی نازل کی گئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آیت الکری یعنی الله لا اله الا هو الحي القيوم ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” مسعودی “ ہے جو ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ طبرانی کی روایت میں کچھ اضافہ ہے ، وہ روایت آگے چل کر ” تاریخ “ سے متعلق باب میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 726
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 178/5 ، 179 ، 265 ، 266 ، اورده المؤلف فى زوائد المسند 3586 اورده المؤلف فى كشف الاستار 160»