مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَبْدِ الصَّالِحِ . باب: نیک غلام کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَبْدٌ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَبْلَ مَوَالِيهِ بِسَبْعِينَ خَرِيفًا ، فَيَقُولُ السَّيِّدُ : رَبِّ هَذَا كَانَ عَبْدِي فِي الدُّنْيَا قَالَ : جَازَيْتُهُ بِعَمَلِهِ وَجَازَيْتُكَ بِعَمَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ الصَّفَارُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ يَحْيَى ، وَأَبُوهُ ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ ، وَلَمْ يُجِرِّحْهُ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ غلام ، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہو اور اپنے آقاؤں کی اطاعت کرتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے آقاؤں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل کر دے گا ، اس کا آقا کہے گا : اے میرے پروردگار ! یہ دنیا میں میرا غلام تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : میں نے اس کے عمل کا بدلہ اسے دیا ہے ، اور تمہارے عمل کا بدلہ تمہیں دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : بیٹی بن عبداللہ بن عبدویہ صفار ، اپنے والد کے حوالے اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو یحیی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس کے والد کا ذکر خطیب نے کیا ہے ، لیکن انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔