مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ . باب: غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اور ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین
حدیث نمبر: 7218
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " . حَتَّى جَعَلَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرَهُ وَمَا يَقْبِضُ بِهَا لِسَانَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ أَبُو الْوَلِيدِ الْوَصَافِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت زیادہ تر یہ تھی : ” نماز اور اپنے زیر ملکیت لوگوں کا خیال رکھنا “ ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کا عالم طاری ہو گیا اور آپ کی زبان نے کلام کرنا چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ متروک ہے ۔