مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ . باب: غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اور ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : عَهْدِي بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ وَفَاتِهِ بِخَمْسِ لَيَالٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَلَهُ خَلِيلٌ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَإِنَّ خَلِيلِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، وَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا . أَلَا وَإِنَّ الْأُمَمَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ . اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . وَأُغْمِيَ عَلَيْهِ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهَ اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ أَشْبِعُوا بُطُونَهُمْ وَاكْسُوا ظُهُورَهُمْ وَأَلِينُوا الْقَوْلَ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پانچ دن پہلے ، آپ سے میری آخری ملاقات ہوئی تھی ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نبی کا اُس کی امت میں سے کوئی نہ کوئی خلیل ہوتا ہے ، اور میرا خلیل ’ ابوبکر بن ابوقحافہ ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے آقا کو خلیل بنا لیا ہے ، خبردار ! تم سے پہلے کی امتوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ، اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر تھوڑی دیر کے لئے آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : اپنے زیر ملکیت لوگوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ، اللہ سے ڈرتے رہنا ، تم ان کے پیٹوں کو سیر رکھنا اور ان کی جسموں کو ڈھانپ کے رکھنا اور ان کے ساتھ نرمی سے بات کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر ہے اور علی بن یزید ہے ، یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔