مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ . باب: غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اور ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا ؟ قَالَ : " بَلَى فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ " . قَالُوا : فَمَا تَنْفَعُنَا الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ ، وَغَيْرُهُ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جو غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرتا ہو ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں یہ بات نہیں بتائی ہے کہ اس امت میں سب امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کی اس طرح عزت افزائی کرنا ، جس طرح اپنی اولاد کی کرتے ہو ، اور انہیں اس چیز میں سے کھلانا جو تم کھاتے ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں سے ہمارے لئے کیا چیز فائدہ مند ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ گھوڑا جسے تم باندھ کے رکھو ، اس پر سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لو ، اور وہ غلام جو تمہارے کام کاج کر دے ، جب وہ نماز ادا کرے ، تو پھر وہ تمہارا بھائی ہو گا ، جب وہ نماز ادا کرے ، تو پھر وہ تمہارا بھائی ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور دیگر حضرات نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔