مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَثْرَةِ السُّؤَالِ . باب: بکثرت ( غیر متعلقہ یا غیر ضروری ) سوال کرنا
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَوْمًا وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ : يَا حَارِ بْنَ قَيْسٍ - لِلْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ - مَا تَرَاهُمْ يُرِيدُونَ إِلَى مَا يَسْأَلُونَ [ عَنْهُ ] ؟ قَالَ : لِيَتَعَلَّمُوهُ ثُمَّ يَتْرُكُوهُ . قَالَ : صَدَقْتَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن ارشاد فرمایا : اُس دن لوگوں نے اُن سے بکثرت سوالات کئے تھے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے حار بن قیس ! انہوں نے حارث بن قیس سے یہ فرمایا تھا ، تم ان لوگوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ یہ لوگ جس چیز کے بارے میں سوال کر رہے ہیں ، اس کے حوالے سے ان کا ارادہ کیا ہے ؟ تو حارث بن قیس نے جواب دیا : تاکہ وہ اس کا علم حاصل کریں اور پھر اسے چھوڑ دیں ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تم نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔