مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَثْرَةِ السُّؤَالِ . باب: بکثرت ( غیر متعلقہ یا غیر ضروری ) سوال کرنا
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمَا انْفَرَدَ بِهِ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قیل و قال ، بکثرت سوال کرنا ، نہ دینا اور دینا ، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا اور ماؤں کی نافرمانی کرنا ( ان سب امور کو تمہارے لیے ) ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے ، جس روایت کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو ، اس کے حوالے سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔