مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی وصیت
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُوصِيكَ بِأَمْرَيْنِ إِنْ حَفِظْتَهُمَا حَفِظْتَ : إِنَّهُ لَا غِنَى بِكَ عَنْ نَصِيبِكَ مِنَ الدُّنْيَا ، وَأَنْتَ إِلَى نَصِيبِكَ مِنَ الْآخِرَةِ أَفْقَرُ فَآثِرْ نَصِيبَكَ مِنَ الْآخِرَةِ عَلَى نَصِيبِكَ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَظِمَهُ لَكَ انْتِظَامًا ، فَتَزُولَ بِهِ مَعَكَ أَيْنَمَا زُلْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِابْنِ سِيرِينَ سَمَاعًا مِنْ مُعَاذٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان کے ساتھ ان کے پاس موجود تھے جو ان پر سلام بھیج رہے تھے اور ان کے لئے دعا کر رہے تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں دو باتوں کی وصیت کرتا ہوں ، اگر تم انہیں یاد رکھو گے ، تو یاد رکھو گے ، دنیا میں سے تمہارا جو حصہ ہے ، اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، اور آخرت میں سے جو تمہارا حصہ ہے ، اسکی تمہیں زیادہ ضرورت ہے ، تو تم آخرت کے حوالے سے اپنے حصے کو دنیا کے حصے پر ترجیح دو ، یہاں تک کہ وہ تمہارے لئے انتظام کر لے اور پھر وہ تمہارے ساتھ وہیں جائے ، جہاں تم رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے ابن سرین کے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔