مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وصیت
عَنْ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ : يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَلَقَ أَحَدًا هُوَ أَنْصَحُ لَكَ مِنِّي . إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ، ثُمَّ صَلِّ صَلَاةً لَا تَرَى أَنَّكَ تُصَلِّي بَعْدَهَا ، وَإِيَّاكَ وَالطَّمَعَ ؛ فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ ، وَعَلَيْكَ بِالْإِيَاسِ ؛ فَإِنَّهُ الْغِنَى ، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ وَالْقَوْلِ، وَاعْمَلْ مَا بَدَا لَكَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے : انہوں نے مرنے کے قریب اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے ! تم کسی ایسے شخص سے نہیں ملو گے ، جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ خیرخواہ ہو ، جب تم نماز ادا کرنے کا ارادہ کرو ، تو اچھی طرح وضو کرنا پھر اس طرح نماز ادا کرنا کہ تم یہ سمجھو کہ تم اس کے بعد نماز ادا نہیں کر پاؤ گے ، اور تم لالچ سے بچ کے رہنا ، کیونکہ یہ سامنے موجود غربت ہے اور تم پر ( لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کے حوالے سے ) مایوس رہنا لازم ہے ، کیونکہ ایسا شخص ہی خوشحال ہوتا ہے ، تم اس چیز سے بچ کے رہنا کہ کوئی ایسا عمل یا قول کرو کہ جس پر معذرت کرنی پڑے ، اس کے علاوہ جو تمہیں مناسب لگے ، وہ کام کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔