حدیث نمبر: 7131
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ ، وَهُوَ يُوصِي فَجَمَعَ بَنِيهِ وَهُمُ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ ذَكَرًا فَقَالَ : يَا بَنِيَّ إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ تَخْلُفُوا أَبَاكُمْ ، وَلَا تُسَوِّدُوا أَصْغَرَكُمْ فَيَزْرِي بِكُمْ ذَلِكَ عِنْدَ أَكْفَائِكُمْ . وَلَا تُقِيمُوا عَلَيَّ نَائِحَةً ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ . وَعَلَيْكُمْ ( بِإِصْلَاحِ ) الْمَالِ ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ ، وَلَا تُعْطُوا رِقَابَ الْإِبِلِ إِلَّا فِي حَقِّهَا ، وَلَا تَمْنَعُوهَا مِنْ حَقِّهَا . وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ عِرْقِ سُوءٍ فَمَهْمَا يَسُرُّكُمْ يَوْمًا يَسُوؤُكُمْ أَكْثَرَ، وَاحْذَرُوا أَبْنَاءَ أَعْدَائِكُمْ ؛ فَإِنَّهُمْ لَكُمْ أَعْدَاءٌ عَلَى مِنْهَاجِ آبَائِكُمْ . وَإِذَا أَنَا مِتُّ فَادْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ خَمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ يَنْبِشُونِي فَيُفْسِدُوا عَلَيْهِمْ دُنْيَاهُمْ وَيُفْسِدُوا عَلَيْكُمْ آخِرَتَكُمْ . ثُمَّ دَعَا بِكِنَانَتِهِ وَأَمَرَ ابْنَهُ الْأَكْبَرَ ، وَكَانَ يُدْعَى عَلِيًّا، فَقَالَ : أَخْرِجْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي . فَأَخْرَجَهُ، فَقَالَ : اكْسِرْهُ . فَكَسَرَهُ فَقَالَ : أَخْرِجْ سَهْمَيْنِ . فَأَخْرَجَهُمَا، فَقَالَ : اكْسِرْهُمَا . فَكَسَرَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : أَخْرِجْ ثَلَاثِينَ سَهْمًا . فَأَخْرَجَهَا فَقَالَ : اعْصِبْهَا بِوَتَرٍ . فَعَصَبَهَا ، ثُمَّ قَالَ : اكْسِرْهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ كَسْرَهَا . فَقَالَ : يَا بَنِيَّ هَكَذَا أَنْتُمْ بِالِاجْتِمَاعِ وَكَذَلِكَ أَنْتُمْ بِالْفُرْقَةِ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَى وَالِدُ الصِّدْ قِ وَأَحْيَا فَعَالَهُ الْمَوْلُودُ . ¤ وَكَفَى الْمَجْدُ وَالشَّجَاعَةُ وَالْحُلْمُ ¤ إِذَا زَانَهَا فِعَالٌ وُجُودٍ . ¤ وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ¤ عَقَدْتُهُمْ لِلْنَائِبَاتِ الْعُهُودِ . ¤ كَثَلَاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا ¤ مَا شَدَّهَا لِلْمُرَادِ عَقْدٌ شَدِيدٌ . ¤ لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَبَدَّدَتِ الْأَسْهُمُ ¤ أَوْدَى بَجَمْعِهِمَا التَّبْدِيدُ . ¤ وَذُوُوا السِّنِّ وَالْمُرُوءَةِ أَوْلَى ¤ أَنْ يَكُنَّ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدُ . ¤ وَعَلَيْكُمْ حِفْظُ الْأَصَاغِرِ حَتَّى ¤ يَبْلُغَ الْحِنْثَ الْأَصْغَرُ الْمَجْهُودُ . ¤ رَوَاهُ هَكَذَا بِتَمَامِهِ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ : ( إِنَّمَا الصِّدْقُ مَا بَنَى الْوُدَّ ) . وَرَوَى أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ مِنْهُ طَرَفًا ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ : الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ الْمِزِّيُّ : ذَكَرَهُ بَعْضُهُمْ فِي الضُّعَفَاءِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمِ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

عبدالله بن ابوسوید منقری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، وہ وصیت کر رہے تھے ، انہوں نے اپنے بچوں کو جمع کیا ، وہ بتیس افراد تھے ، انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں ، تو تم اپنے میں سے سب سے بڑے کو سردار بنانا ، جو تمہارے باپ کا جانشین ہو ، تم اپنے میں سے چھوٹے کو سردار نہ بنانا ، ورنہ وہ تمہارے ہم پلہ لوگوں کے حوالے سے تمہیں بے حیثیت کر دے گا اور تم کسی نوحہ کرنے والی عورت کو مجھ پر کھڑا نہ کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نوحہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اور تم پر مال کی دیکھ بھال لازم ہے ، کیونکہ یہ معزز شخص کے لئے بچاؤ کا باعث ہوتا ہے اور کمینے شخص سے بے نیاز رکھتا ہے ، اور تم اونٹوں کی گردنیں ، صرف حق میں خرچ کرنا اور انہیں ان کے حق سے نہ روکنا ، اور تم ہر قسم کی زیادتی سے بیچ کے رہنا ، کیونکہ بعض اوقات کوئی چیز جو آج تمہیں خوش کر رہی ہے ، وہ ( بعد میں ) زیادہ تر تمہیں بری لگے گی ، اور تم اپنے دشمنوں کے بچوں سے بچ کے رہنا ، کیونکہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح تمہارے دشمن ہی ہوں گے ، جب میں مر جاؤں ، تو مجھے کسی ایسی جگہ پر دفن کرنا ، جہاں بکر بن وائل قبیلے کے لوگ واقف نہ ہو سکیں ، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ میری قبر کھود کر اپنی دنیا خراب کریں گے اور تمہاری آخرت کو خراب کریں گے ، پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا اور اپنے بڑے بیٹے کو حکم دیا ، جس کا نام علی تھا ، انہوں نے کہا: تم میرے ترکش میں سے ایک تیر نکالو ! اس نے نکالا ، انہوں نے کہا: تم اسے توڑ دو ! اس نے اسے توڑ دیا ، انہوں نے کہا: دو تیر نکالو ، اس نے دو تیر نکالے ، انہوں نے کہا: تم یہ دونوں تیر توڑ دو ، اس نے ان دونوں کو توڑ دیا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم تین تیر نکالو ، اس نے نکالے ، انہوں نے فرمایا : اسے تار کے ذریعے باندھ دو ! اس نے وہ باندھ دیے ، پھر انہوں نے فرمایا : تم اسے توڑ دو ! تو وہ انہیں نہیں توڑ سکا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اکھٹے رہنے میں تم اسی طرح رہو گے اور الگ رہنے کی صورت میں تمہاری یہ صورت ہو گی ، پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” بیشک بزرگی وہی ہوتی ہے ، جو سچے باپ نے بنائی ہو اور اس کے کاموں کو ( اس کے ) بچے زندہ رکھیں ، بزرگی ، بہادری اور بردباری کافی ہوتی ہیں ، جبکہ یہ کام کاج کرنے اور سخاوت سے آراستہ ہوں ، اے میرے بیٹے ! پیش آنے والی مشکلات کے لیے تم اگر تیس ( افراد مل کر ) عہد کر لو ، تو ان کی مثال ان تیس تیروں کی طرح ہو گی ، جنہیں مضبوطی سے باندھ دیا گیا ہو ، تو ان کو توڑا نہیں جا سکتا ، اور اگر ان کو الگ الگ کر دیا جائے ، تو علیحدہ ہونا ، اُن سب کو ہلاک کر دے گا ، عمر رسیدہ ہونا اور صاحب مروت ہونا ، اس بات سے اولیٰ ہے کہ تمہاری طرف سے ان کے لیے سرداری ہو ، اور تم پر چھوٹوں کی دیکھ بھال لازم ہے ، یہاں تک کہ مشقت کا شکار کمسن فرد بلوغت تک پہنچ جائے “ ۔
یہ روایت اس طرح مکمل روایت کے طور پر امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم معجم اوسط میں پہلا شعر یہ ہے : ” بیشک سچائی وہ ہے ، جو محبت بناتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی علاء بن فضل ہے امام مزی کہتے ہیں : بعض حضرات نے اس کا ذکر ضعیف راویوں میں کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حکیم بن قیس بن عاصم کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1378)، اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (339/18) اخرجه احمد فى المسند (61/5) والحديث فى المستدرك للحاكم (612/3)»