حدیث نمبر: 7087
وَعَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ فَأَذِنُوا لَهُ ، ثُمَّ رَجَعُوا فِيهِ بَعْدَ مَا مَاتَ فَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : ذَلِكَ النَّكَرُّهُ لَا يَجُوزُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین

قاسم بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے ورثاء سے یہ اجازت مانگی کہ وہ ایک تہائی حصے سے زیادہ کے بارے میں وصیت کر دے ، ورثاء نے اسے اجازت دے دی ، پھر انہوں نے اس اجازت سے رجوع کر لیا ، یہ انہوں نے اس کے مرنے کے بعد کیا ، اس بارے میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ زیادتی ہے ، جو درست نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7087
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9161)»