حدیث نمبر: 7080
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فُلَانٌ . قَالَ : " أَلَيْسَ كَانَ مَعَنَا آنِفًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ كَأَنَّهَا إِخْذَةٌ عَلَى غَضَبٍ . الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ ہمارے پاس نہیں تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ یہ غضب والی گرفت محسوس ہوتی ہے ، وہ شخص محروم ہے ، جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” وہ شخص محروم ہے ، جو وصیت سے محروم رہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7080
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4122)»