مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُكْتَبُ فِي الْوَصِيَّةِ . باب: وصیت میں کیا تحریر کیا جائے ؟
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ : هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ . وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ : يَابَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي الْأَصْلِ عَلَامَةُ سُقُوطٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَيَّادٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْبَزَّارُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ اپنی وصیت کے آغاز میں یہ تحریر کروایا کرتے تھے : ” یہ وہ چیز ہے ، جس کی وصیت فلاں بن فلاں نے کی ہے ، وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، قیامت آنے والی ہے ، جس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ تعالی ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا جو قبروں میں ہیں ، یہ شخص اپنے بعد والوں کو وہ وصیت کر رہا ہے ، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اے میرے بیٹو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کر لیا ہے ، تو تم اس حال میں مرنا کہ تم مسلمان ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اصل میں یہ علامت موجود ہے کہ کچھ عبارت ساقط ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالمؤمن بن عیاد ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام بزار نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔