حدیث نمبر: 7075
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي اجْتَمَعَ فِيهِ عَلِيٌّ وَمُعَاوِيَةُ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنَّهُ لَا يَجْمُلُ بِكَ أَنْ تَتَخَلَّفَ عَنْ صُلْحٍ يُصْلِحُ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتَ صِهْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . فَأَقْبَلَ مُعَاوِيَةُ يَوْمَئِذٍ عَلَى بُخْتِيٍّ عَظِيمٍ فَقَالَ : مَنْ يَطْمَعُ فِي هَذَا الْأَمْرِ وَيَرْجُوهُ أَوْ يَمُدُّ لَهُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَمَا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِالدُّنْيَا قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ذَهَبْتُ أَنْ أَقُولَ : يَطْمَعُ فِيهِ مَنْ ضَرَبَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى أَدْخَلَكُمَا فِيهِ . فَذَكَرْتُ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا فَأَعْرَضْتُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ أَرَادَ صُلْحَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَوَهِمَ الرَّاوِي . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب وہ دن آیا جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دومۃ الجندل کے مقام اکٹھا ہونا تھا ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سے کہا: یہ چیز تمہارے لئے مناسب نہیں ہے کہ تم اس صلح سے پیچھے رہو ! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں صلح کروا دے گا ، تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز ہو ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہو ، اس دن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بڑے بختی اونٹ پر بیٹھ کر آئے اور بولے : اس معاملے کے بارے میں کون لالچ رکھتا ہے ؟ اور کون اس کی امید رکھتا ہے ؟ اور اس کی طرف گردن اٹھا کے دیکھتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس دن سے پہلے کبھی میں نے اپنے دل میں دنیا کے بارے میں نہیں سوچا تھا ، لیکن اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں یہ کہوں : اس کے بارے میں وہ شخص امید رکھتا ہے ، جس نے اسلام کی خاطر تمہارے ساتھ اور تمہارے باپ کے ساتھ جنگ کی تھی ، یہاں تک کہ تم دونوں کو اسلام میں داخل کروایا تھا ، لیکن پھر مجھے جنت اور اس کی نعمتوں کا خیال آ گیا ، تو میں نے اس سے اعراض کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، بظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ ) سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح ہے اور اس بارے میں راوی کو وہم ہوا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح