حدیث نمبر: 7074
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالنُّخَيْلَةِ حِينَ صَالَحَهُ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : إِذَا كَانَ ذَا فَقُمْ فَتَكَلَّمْ وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ سَلَّمْتَ هَذَا الْأَمْرَ لِي . وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : أَخْبِرِ النَّاسَ بِهَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تَرَكْتَهُ . فَقَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ . قَالَ الشَّعْبِيُّ : وَأَنَا أَسْمَعُ . ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى ، وَإِنَّ أَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ إِمَّا كَانَ حَقًّا لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ ، أَوْ يَكُونُ حَقًّا كَانَ لِامْرِئٍ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي فَفَعَلْتُ ذَلِكَ ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی بیان کرتے ہیں : نخیلہ کے مقام پر ، میں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صلح کی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جب یہ بات ہو گئی ہے ، تو آپ اٹھ کر کلام کریں اور یہ بات بیان کریں کہ آپ نے حکومت میرے حوالے کر دی ہے ، یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آپ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں بتا دیں جسے آپ نے ترک کر دیا ہے ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں یہ بات سن رہا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : ” اما بعد ! سب سے بڑی سمجھداری ، پرہیز گاری ہے ، اور سب سے بڑی حماقت گنہگاری ہے ، یہ معاملہ جس کے بارے میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا ، اگر تو یہ میرا حق تھا ، تو پھر میں اسے معاویہ کے لئے چھوڑ رہا ہوں ، تاکہ اس امت کے درمیان بہتری ہو جائے اور ان کا خون بہنا بند ہو جائے ، اور اگر یہ کسی ایسے شخص کا حق تھا ، جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ، تو میں نے ایسا کر لیا ہے ( اور اس سے دست بردار ہو گیا ہوں ) مجھے نہیں معلوم کہ شاید یہ صورت حال بھی تم لوگوں کے لئے آزمائش ہو ، اور ایک مخصوص مدت تک کی مہلت ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7074
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2559)»