حدیث نمبر: 7076
وَعَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ قَالَ : أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ فَدَعَوْتُهُ فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : أَفْلَحَ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ . قَالَ : وَوَجْهُكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ : مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ ، وَأَنَا أُغَدِّي النَّاسَ فَغَدَّيْتُهُمْ ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي عَلِيٍّ ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكَ ، وَأَخُوكَ فِي دِينِكَ ، وَصَاحِبُكَ مَعَ نَبِيِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَهْرُكَ ، وَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بَعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ فَاعْفِنِي مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّ أَوَّلَ مَا أُجِيبُكَ أَنِّي قَدْ شَفَّعْتُكَ فِي عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا لَوْ شَاءَ مَا كَانَ أَحَدٌ دُونَهُ ، وَلَكِنَّهُ أَبَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا رَأْيُهُ . ثُمَّ بَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي ابْنِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمَّتِكَ وَأَخِيكَ فِي دِينِكَ وَصَاحِبِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَلِيِّ بَيْعَتِكَ . فَقَالَ : وَاللَّهِ لَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ عَنْ دَارِي لَخَرَجْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

صہیب ، جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، تاکہ میں انہیں بلا کے لاؤں ، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے ، میں نے انہیں بلایا وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے ابوالفضل ! آپ چہرہ کامیاب ہو ( یعنی دعا دی ) تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین ! آپ کا چہرہ بھی ( کامیاب ہو ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب آپ کا قاصد میرے پاس آیا تو میں لوگوں کو کھانا کھلا رہا تھا تو انہیں کھانا کھلانے کے فوراً بعد میں آپ کے پاس آ گیا ہوں ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو علی کے بارے میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ، وہ آپ کے چچازاد ہیں ، دین میں آپ کے بھائی ہیں نبی کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی ہیں ، اور آپ کے سسرالی عزیز بھی بنتے ہیں ، مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ علی اور اس کے ساتھیوں کو اس کا نگران بنا دیں اور مجھے اس معاملے میں معاف رکھیں اے امیر المونین ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو سب سے پہلا جواب تو یہ دیتا ہوں کہ علی کے بارے میں ، میں نے آپ کی سفارش کو قبول کر لیا ، اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ چاہیں تو کوئی شخص ان کے علاوہ مناسب نہیں ہے ، لیکن اگر وہ انکار کر دیتے ہیں ، تو پھر ان کی رائے کا معاملہ مختلف ہے ، پھر انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں آپ کو آپ کے چچازاد اور آپ کے پھوپھی زاد اور آپ کے دین میں ، آپ کے بھائی اور آپ کے رسول کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی اور آپ کے بیعت کے نگران ہونے کے حوالے سے آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے یہ حکم دے دیں کہ میں اپنے گھر سے نکل جاؤں تو میں نکل جاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔