مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصُّلْحِ . باب: صلح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ : لَوْ نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابَرْسَ إِلَى جَابَلْقَ مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَأَخِي ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : جَابَرْسُ وَجَابَلْقُ : الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” اگر تم جابرس سے لے کر جابلق تک کا جائزہ لو ، تو تمہیں میرے اور میرے بھائی ( یعنی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا ، جس کا نانا ” نبی “ ہو اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی خلافت ) پر اکھٹے ہو جاؤ ، ہو سکتا ہے کہ یہ بھی تمہارے لئے آزمائش ہو ، اور مخصوص مدت تک کی مہلت ہو “ ۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں : جابرس اور جابلق سے مراد ، مشرق اور مغرب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔