حدیث نمبر: 7072
وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ فَعَدَّ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا . فَقَالَ عُمَرُ : مَهْ يَا عَبَّاسُ قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ ، ابْنُ أَخِي وَلِي شَطْرُ الْمَالِ . وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ ، تَقُولُ : ابْنَتُهُ تَحْتِي وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ . وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَدْ رَأَيْنَا مَا يَصْنَعُ فِيهِ فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ . ¤ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ ، وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ " . ¤ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ " . وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُمَانِي لَتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قَالَ : فَخَلَوْا ، ثُمَّ جَاءَا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ ، فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

قریش میں سے ، بنوتیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے یہ بات بیان کی ہے : فلاں نے اور فلاں نے اور فلاں نے یہاں تک کہ انہوں نے چھ یا سات افراد کو شمار کروایا ، جن سب کا تعلق قریش سے تھا ، اور ان میں ایک سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ انہوں نے مجھے یہ روایت بیان کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اندر آئے ، ان دونوں کی آواز بلند ہو رہی تھی ( یعنی آپس میں تکرار چل رہی تھی ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابا جان ! آپ ٹھہر جائیں مجھے پتہ ہے آپ کیا کہیں گے کہ میرے بھتیجے کا نصف مال مجھے ملنا چاہیے ، اور اے علی مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کیا کہیں گے ؟ آپ کہیں گے : ان کی صاحبزادی میری بیوی ہے ، تو اسے نصف مال ملنا چاہیے ، یہ جو کچھ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں تھا ، ہم نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کس طرح استعمال کیا ؟ آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے نگران بنے ، تو انہوں نے اس سب کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق استعمال کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں اس کا نگران بنا ، تو میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس بات کی بھرپور کوشش کروں گا کہ اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقے کے مطابق کام کروں ۔ محمد نامی راوی کہتے ہیں : ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ، اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اُٹھا کر یہ کہا: ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے تھے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” نبی کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی ، اُن کی وراثت مسلمانوں کے غریب لوگوں اور مساکین کو دی جاتی ہے “ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نبی کا اُس وقت تک انتقال نہیں ہوتا ، جب تک اُس کی امت کا کوئی فرد اس کی امامت نہیں کرتا“ ( اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) یہ وہ چیزیں تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں تھیں ، ہم نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے استعمال کرتے تھے ؟ اگر آپ دونوں یہ چاہیں ، تو یہ دونوں میرے حوالے کر دیں ، یا یہ کہ آپ اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقے کے مطابق عمل کرتے ہیں ، تو پھر میں یہ آپ کے سپرد کر دیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : یہ حضرات اس وقت اُٹھ کے چلے گئے ، پھر یہ دونوں حضرات واپس آئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہ علی کے حوالے کر دیں ، کیونکہ میں اپنی خوشی سے یہ اس کو دے رہا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7072
درجۂ حدیث محدثین: وهلذا إسناد ضعيف فيه جهالة
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (78)»