مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصُّلْحِ . باب: صلح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ خَاصَمَ الْعَبَّاسُ عَلِيًّا فِي أَشْيَاءَ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : شَيْءٌ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُحَرِّكْهُ فَلَا أُحَرِّكُهُ . فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : شَيْءٌ لَمْ يُحَرِّكْهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَسْتُ أُحَرِّكُهُ . فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فَأَسْكَتَ عُثْمَانُ وَنَكَّسَ رَأْسَهُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَخَشِيتُ أَنْ يَأْخُذَهُ فَضَرَبْتُ [ يَدِي ] بَيْنَ كَتِفَيِ الْعَبَّاسِ فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتَهُ إِلَى عَلِيٍّ . قَالَ : فَسَلَّمَهُ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کچھ چیزوں کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں چھوڑی تھیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ چیز جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں چھوڑا ہے ، اور اسے آپ نے کوئی حرکت نہیں دی تھی ، تو میں بھی اسے کوئی حرکت نہیں دوں گا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو یہ دونوں صاحبان اپنا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے بھی یہ کہا: کہ جس چیز کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں دی تھی ، تو میں بھی اسے حرکت نہیں دوں گا ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو ان دونوں نے اپنا مقدمہ ان کے سامنے پیش کیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خاموش رہے ۔ انہوں نے اپنا سر جھکا لیا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اس چیز کو اپنے قبضے میں لے لیں گے ، تو میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا اور میں نے یہ کہا: اے ابا جان ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ یہ چیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے وہ چیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔