مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصُّلْحِ . باب: صلح کا بیان
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَلِّبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ لِلْعَبَّاسِ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَكَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ . فَلَمَّا وَصَلَ الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ [ فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ ] فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِ الْمِيزَابِ ، ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ [ ثُمَّ جَاءَ ] فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعُ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ : وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَّا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ هِشَامَ بْنَ سَعْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . . ¤سیدنا عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب ، رضی اللہ عنہ جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ایک پرنالہ تھا ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ( دور خلافت میں اُن کے ) راستے میں آتا تھا ، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن مخصوص لباس پہنا ، اسی دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے لئے دو پرندے ذبح کیے گئے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پرنالے کے پاس پہنچے ، تو اس پرنالے میں سے دونوں پرندوں کا خون پانی کے ساتھ بہتا ہوا آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لگ گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پرنالے کو اکھاڑ دینے کا حکم دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس گئے ، انہوں نے کپڑے اتارے ، دوسر الباس پہنا پھر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ( نماز کے بعد ) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور بولے : اللہ کی قسم ! یہ پرنالہ اس جگہ پر لگا ہوا تھا ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگایا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ میری پشت پر سوار ہو کر اُس پرنالے کو اسی جگہ رکھیں ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگایا تھا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہشام بن سعد نامی راوی نے سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔