مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدَبِ مَعَ الْحَدِيثِ . باب: حدیث کا احترام کرنا
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِالْهَاجِرَةِ ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ : " مَا أُحِلُّ أَمْوَالَ الْمُعَاهِدِينَ بِغَيْرِ حَقِّهَا ، عَسَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ يَقُولُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ : مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ حَلَالٍ أَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا وَجَدْنَا مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ ، أَلَا وَإِنِّي أُحَرِّمُ عَلَيْكُمْ أَمْوَالَ الْمُعَاهِدِينَ بِغَيْرِ حَقِّهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے خالد ! لوگوں میں اعلان کرو کہ وہ اکٹھے ہو جائیں ! اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دوپہر کی نماز پڑھائی پھر آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : میں ذمیوں کے اموال کو ناحق طور پر حاصل کرنے کو حلال قرار نہیں دیتا ہوں ، عنقریب ایسا ہو گا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا : جس چیز کو ہم اللہ کی کتاب میں حلال پائیں گے ، اُسے حلال قرار دیں گے اور جسے حرام پائیں گے ، اُسے حرام قرار دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خبردار ! میں ذمیوں کے اموال کو ناحق طور پر حاصل کرنے کو تم پر حرام کر دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔