مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدَبِ مَعَ الْحَدِيثِ . باب: حدیث کا احترام کرنا
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ وَهُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعْضُهُمْ يُقْبِلُ عَلَى بَعْضٍ يَتَحَدَّثُونَ ، فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ : انْظُرْ إِلَيْهِمْ ، أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا رَأَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ ، وَبَعْضُهُمْ يُقْبِلُ عَلَى بَعْضٍ ، أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ وَلَا أَرْجِعُ إِلَيْكُمْ أَبَدًا . قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ تَذْهَبُ ؟ قَالَ : أَذْهَبُ فَأُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قُلْتُ : مَالَكَ جِهَادٌ ، وَمَا تَسْتَمْسِكُ عَلَى الْفَرَسِ ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَضْرِبَ بِالسَّيْفِ ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَطْعَنَ بِالرُّمْحِ . قَالَ : يَا أَبَا حَازِمٍ ، أَذْهَبُ فَأَكُونُ فِي الصَّفِّ ، فَيَأْتِينِي سَهْمٌ عَائِرٌ أَوْ حَجَرٌ ، فَيَرْزُقُنِي اللَّهُ الشَّهَادَةَ . [ قَالَ : فَذَهَبَ لَعَمْرِي فَمَا رَجَعَ إِلَّا مَطْعُونًا ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ابوحازم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک مرتبہ وہ اپنی قوم کے افراد کی محفل میں موجود تھے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کر رہے تھے ، اسی دوران وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں بات چیت کرنے لگے ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے : تم ان لوگوں کو دیکھو ! میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کر رہا ہوں ، وہ چیز جو میری آنکھوں نے دیکھی اور میرے کانوں نے سنی ہے ، اور یہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کے درمیان سے نکل جاؤں گا اور کبھی تمہاری طرف واپس نہیں آؤں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُن سے کہا: آپ کہاں جائیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : میں جا کر اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لوں گا ، میں نے کہا: آپ جہاد میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں جبکہ آپ نہ تو گھوڑے پر جم کر بیٹھ سکتے ہیں ، نہ ہی تلوار کے ذریعے حملہ کر سکتے ہیں ، نہ ہی نیزے کے ذریعے حملہ کر سکتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : اے ابوحازم ! میں جا کر صف میں شامل ہو جاؤں گا اور پھر کوئی انجان تیر یا پتھر مجھے لگے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب کر دے گا ، راوی کہتے ہیں : وہ چلے گئے ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! وہ اس وقت واپس آئے ، جب زخمی ہو چکے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔