حدیث نمبر: 6988
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ . قَالَ : أَوَتُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : لَا عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ . قَالَ : لَا تَعْجَلْ . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ ، فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا . قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي . قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ التَّقَلُّبَ كَفَافًا " . فَمَا أَرْجُو بَعْدَ هَذَا ؟ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ كِلَاهُمَا بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَزَادَ أَحْمَدُ : فَأَعْفَاهُ وَقَالَ : لَا تُجْبِرَنَّ أَحَدًا . ¤
محمد محی الدین

عبدالله بن موہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ جائیں اور لوگوں کے درمیان قاضی کے فرائض سر انجام دیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ مجھے اس حوالے سے معاف نہیں رکھیں گے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ جائیں اور قاضی کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دیں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ جلدی نہ کریں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ” جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے ، تو وہ ایک مضبوط پناہ مانگتا ہے “ ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اللہ کی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ ایسا کیوں نہیں کر رہے ؟ جبکہ آپ کے والد قاضی کے طور پر فیصلے دیا کرتے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص قاضی بنے اور جہالت کی بنیاد پر فیصلے دے ، تو وہ جہنمی ہو گا اور جو شخص قاضی بنے اور وہ عالم ہو اور وہ حق یا عدل کے مطابق فیصلہ دے تو وہ یہ درخواست کرے گا کہ اُسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) تو میں اس کے بعد کس چیز کی توقع رکھ سکتا ہوں ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ، جو امام ترمذی نے نقل کی ہے اور وہ اس سیاق کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، لیکن ان دونوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام أحمد نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا ، انہوں نے کہا: آپ کسی ایک کو زبردستی مجبور نہیں کریں گے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح