حدیث نمبر: 6984
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ ، وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خلافت قریش میں رہے گی ، فیصلہ کرنے کا عہدہ انصار میں رہے گا ، دعوت حبشیوں میں رہے گی ، اور ہجرت مسلمانوں میں رہے گی اور مہاجرین اس کے بعد بھی ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (121/17) اخرجه احمد فى المسند (158/4)»
حدیث نمبر: 6985
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ ، وَالشِّرْعَةُ فِي الْيَمَنِ ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : " وَالشِّرْعَةُ فِي الْيَمَنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حکومت قریش میں رہے گی ، قاضی کا عہدہ انصار میں رہے گا ، اذان حبشیوں میں رہے گی ، میثاق ( کی پاسداری ) یمن میں رہے گی اور امانت ، ازد قبیلے کے لوگوں میں رہے گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” میثاق ( کی پاسداری ) یمن میں رہے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (364/2)»
حدیث نمبر: 6986
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
عمران بن حطان بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا رہا یہاں تک کہ ہم نے قاضی کا ذکر کیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن عدل کرنے والے قاضی پر بھی ایسی گھڑی ضرور آئے گی ، جب وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے کبھی ایک کھجور کے بارے میں بھی ، دو آدمیوں کے درمیان کبھی کوئی فیصلہ نہ دیا ہوتا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (75/6)»
حدیث نمبر: 6987
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشِيرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى يَفُكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقَهُ الْجَوْرُ " . ¤ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْخِلَافَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی شخص دس آدمیوں کا امیر ہو گا ، تو جب اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ، تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے اور صرف عدل ہی اُسے چھڑوا سکے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یا عدل اُسے چھڑوا دے گا ، یا ظلم اسے ہلاکت کا شکار کروا دے گا “ ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو خلافت سے متعلق باب میں آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6629,6614,6570) اخرجه احمد فى المسند (431/2)»
حدیث نمبر: 6988
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ . قَالَ : أَوَتُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : لَا عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ . قَالَ : لَا تَعْجَلْ . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ ، فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا . قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي . قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ التَّقَلُّبَ كَفَافًا " . فَمَا أَرْجُو بَعْدَ هَذَا ؟ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ كِلَاهُمَا بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَزَادَ أَحْمَدُ : فَأَعْفَاهُ وَقَالَ : لَا تُجْبِرَنَّ أَحَدًا . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن موہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ جائیں اور لوگوں کے درمیان قاضی کے فرائض سر انجام دیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ مجھے اس حوالے سے معاف نہیں رکھیں گے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ جائیں اور قاضی کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دیں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ جلدی نہ کریں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ” جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے ، تو وہ ایک مضبوط پناہ مانگتا ہے “ ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اللہ کی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ ایسا کیوں نہیں کر رہے ؟ جبکہ آپ کے والد قاضی کے طور پر فیصلے دیا کرتے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص قاضی بنے اور جہالت کی بنیاد پر فیصلے دے ، تو وہ جہنمی ہو گا اور جو شخص قاضی بنے اور وہ عالم ہو اور وہ حق یا عدل کے مطابق فیصلہ دے تو وہ یہ درخواست کرے گا کہ اُسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) تو میں اس کے بعد کس چیز کی توقع رکھ سکتا ہوں ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ، جو امام ترمذی نے نقل کی ہے اور وہ اس سیاق کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، لیکن ان دونوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام أحمد نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا ، انہوں نے کہا: آپ کسی ایک کو زبردستی مجبور نہیں کریں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6989
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَرَادَهُ عُثْمَانُ عَلَى الْقَضَاءِ فَأَبَى وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ : وَاحِدٌ نَاجٍ ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ . مَنْ قَضَى بِالْجَوْرِ أَوْ بِالْهَوَى هَلَكَ . وَمَنْ قَضَى بِالْحَقِّ نَجَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَفْظُهُ : " قَاضٍ قَضَى بِالْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ . وَقَاضٍ قَضَى بِغَيْرِ عِلْمٍ فَهُوَ فِي النَّارِ . وَقَاضٍ قَضَى بِالْحَقِّ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں قاضی کے عہدے پر فائز کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے انکار کر دیا اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ، ایک نجات پانے والا ہو گا اور دو جہنم میں جائیں گے ، جو شخص ظلم کے مطابق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یا نفسانی خواہش کے مطابق فیصلہ دے گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور جو شخص حق کے مطابق فیصلہ دے گا ، وہ نجات پا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” جو قاضی خواہش نفس کے مطابق فیصلہ دے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ایک قاضی وہ ہے ، جو علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دے گا ، وہ جہنم میں جائے گا اور ایک قاضی وہ ہے ، جو حق کے مطابق فیصلہ دے گا ، وہ جنت میں جائے گا “ ۔ معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6990
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قاضی جب فیصلہ دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کا دست رحمت اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب تقسیم کرنے والا تقسیم کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کا دست رحمت اس کے ساتھ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6990
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6991
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَرْفَعُهُ قَالَ : " يُؤْتَى بِالْقَاضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ ، فَإِنْ أُمِرَ بِهِ وَدُفِعَ فَهَوَى فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعِينَ خَرِيفًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” قیامت کے دن قاضی کو لایا جائے گا اور جہنم کے کنارے پر کھڑا کر دیا جائے گا ، اگر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، تو اسے اُس میں پھینک دیا جائے گا ، اور وہ ستر سال تک اُس میں گرتا رہے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ چالیس سال تک اس میں گرتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6991
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1351)»
حدیث نمبر: 6992
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ ، فَقُلْتُ : مَا أُحْسِنُ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ مزنی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں کچھ لوگوں کے درمیان قاضی کے فرائض سرانجام دوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اچھی طرح سے قاضی کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالی کا دست رحمت قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ، جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6992
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «الطبراني فى المعجم الكبير (230/20) اخرجه احمد فى المسند (26/5)»
حدیث نمبر: 6993
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ وَنَسَبُوهُ إِلَى الْكَذِبِ وَالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ، جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان قاری ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ انہوں نے اس کی نسبت جھوٹ بولنے اور حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6993
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9792)»
حدیث نمبر: 6994
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَلَايَةً ، وَكَانَتْ بِنِيَّةِ الْحَقِّ ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يُوَفِّقَانِهِ وَيُرْشِدَانِهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا ، وَكَانَتْ نِيَّتُهُ غَيْرَ الْحَقِّ ، وَكَّلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُوَفِّقَانِهِ وَيُسَدِّدَانِهِ إِذَا أُرِيدَ بِهِ الْخَيْرُ " . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے اور اس کی نیت حق کے مطابق ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر کر دیتا ہے ، جو اسے توفیق دیتے ہیں اور اس کی رہنمائی کرتے ہیں ، اور جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے اور اس کی نیت حق کے مطابق نہیں ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی ذات کے حوالے کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ دونوں فرشتے اسے توفیق دیتے ہیں ، اُسے سیدھے راستے پر رکھتے ہیں ، جب اس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیا گیا ہو “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خثیم بن عراک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1350)»
حدیث نمبر: 6995
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ يُسَدِّدَانِهِ مَا نَوَى الْحَقَّ ، فَإِذَا نَوَى الْحَيْفَ عَلَى عَمْدٍ وَكَلَاهُ إِلَى نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَنَاحٌ مَوْلَى الْوَلِيدِ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان ، مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے ، جو اسے سیدھی راہ بتاتے ہیں ، جب تک وہ حق کی نیت رکھتا ہے ، اور جب وہ جان بوجھ کر زیادتی کی نیت کر لے ، تو وہ دونوں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جناح ہے ، جو ولید کا آزاد کردہ غلام ہے ، ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6995
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (84/22)»
حدیث نمبر: 6996
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا يُسَدِّدُهُ إِلَى الْخَيْرِ مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ، جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اسے بھلائی کی توفیق دیتا رہتا ہے ، جب تک وہ بھلائی کے علاوہ کا ارادہ نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6996
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5077)»
حدیث نمبر: 6997
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ قَاضٍ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَمَعَهُ مَلَكَانِ يُسَدِّدَانِهِ إِلَى الْحَقِّ مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهُ ، فَإِذَا أَرَادَ غَيْرَهُ وَجَارَ مُتَعَمِّدًا ؛ تَبَرَّأَ مِنْهُ الْمَلَكَانِ وَوَكَلَاهُ إِلَى نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمانوں کے قاضیوں میں سے ، جو بھی قاضی ہوتا ہے ، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ، جو حق کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں جب تک وہ حق کے علاوہ کسی اور چیز کا ارادہ نہیں کرتا ، جب وہ حق کے علاوہ کا ارادہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر زیادتی کرتا ہے ، تو دونوں فرشتے اس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور اسے اس کی ذات کے حوالے کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6997
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (240/18)»