مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقَضَاءِ . باب: قضاء کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَرَادَهُ عُثْمَانُ عَلَى الْقَضَاءِ فَأَبَى وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ : وَاحِدٌ نَاجٍ ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ . مَنْ قَضَى بِالْجَوْرِ أَوْ بِالْهَوَى هَلَكَ . وَمَنْ قَضَى بِالْحَقِّ نَجَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَفْظُهُ : " قَاضٍ قَضَى بِالْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ . وَقَاضٍ قَضَى بِغَيْرِ عِلْمٍ فَهُوَ فِي النَّارِ . وَقَاضٍ قَضَى بِالْحَقِّ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں قاضی کے عہدے پر فائز کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے انکار کر دیا اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ، ایک نجات پانے والا ہو گا اور دو جہنم میں جائیں گے ، جو شخص ظلم کے مطابق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یا نفسانی خواہش کے مطابق فیصلہ دے گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور جو شخص حق کے مطابق فیصلہ دے گا ، وہ نجات پا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” جو قاضی خواہش نفس کے مطابق فیصلہ دے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ایک قاضی وہ ہے ، جو علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دے گا ، وہ جہنم میں جائے گا اور ایک قاضی وہ ہے ، جو حق کے مطابق فیصلہ دے گا ، وہ جنت میں جائے گا “ ۔ معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔