حدیث نمبر: 6982
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً ، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ ایک سو اونٹ قربان کریں گے ، ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ قربان کر دیے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے والد نے توحید کا اقرار کیا تھا ، تو پھر تم روزہ رکھو اور اس کی طرف سے صدقہ کرو ، تو یہ چیز اسے نفع دے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6982
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6704)»