حدیث نمبر: 6981
وَعَنْ مَرْوَانَ بْنِ قَيْسٍ ، وَكَانَ قَدْ أَخَذَ الرَّعِيَّةَ عَنْ أَهْلِهِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ ، وَقَدْ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى مَكَّةَ ، وَأَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً ، وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ يُمْشَى عَنْهُ ، وَأَنْ يُنْحَرَ عَنْهُ بَدَنَةٌ مِنْ مَالِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ ، اقْضِ عَنْهُ ، وَانْحَرْ عَنْهُ وَامْشِ عَنْهُ . أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ لِرَجُلٍ فَقَضَيْتَ عَنْهُ مِنْ مَالِكَ أَلَيْسَ يَرْجِعُ الرَّجُلُ رَاضِيًا ؟ [ وَ ] اللَّهَ تَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُرْضَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مروان بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنے اہل خانہ سے ” رعیہ “ لیا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ، انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ پیدل چل کر مکہ تک جائیں گے اور اونٹ قربان کریں گے ، انہوں نے کوئی مال نہیں چھوڑا ، تو کیا ان کی طرف یہ نذر ادا ہو جائے گی ، اگر ان کی طرف سے پیدل چل کر جایا جائے ، اور میں اپنے مال میں سے ان کی طرف سے اونٹ قربان کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کی طرف سے اس کو پورا کرو اور ان کی طرف سے قربانی کرو اور ان کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ ، اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر تمہارے والد کے ذمہ کسی شخص کا قرض ہوتا ، اور تم اپنے مال میں سے ان کی طرف سے ادا کر دیتے ، تو کیا اس شخص نے راضی ہو کر واپس نہیں جانا تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ تو اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (359/20)»