مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ : فِيمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، ثُمَّ أَسْلَمَ . باب: اس شخص کا بیان ، جس نے زمانہ جاہلیت میں کوئی نذر مانی ہو اور پھر وہ اسلام قبول کر لے
حدیث نمبر: 6979
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : فِي الْجَاهِلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں حکم دریافت کیا ، جو ان کی والدہ نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی ، اور پھر اس کو پورا کرنے سے پہلے اس خاتون کا انتقال ہو گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کی طرف سے اسے پورا کر دیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” زمانہ جاہلیت میں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔