حدیث نمبر: 6978
وَعَنِ ابْنَةِ كَرَدْمَةَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ إِجْمَاعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا . وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ [ الْجَارِيَةِ ] مَشْيًا أَفَأَمْشِي عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کردمہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، اور یہ کہا: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں تین اونٹ قربان کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ نذر زمانہ جاہلیت کے کسی اجتماع کی بنیاد پر ، یا زمانہ جاہلیت کی کسی عید کے حوالے سے ، یا کسی بت کے حوالے سے تھی ، تو پھر تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ تھی ، تو پھر تم اپنی نذر کو پورا کرو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس لڑکی کی والدہ نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی ، تو کیا میں اس کی طرف سے پیدل چل لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6978
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (376/5,64/4)»