مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ شَيْئًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے اوپر کوئی چیز حرام قرار دے دیتا ہے
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بِضَرْعٍ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْهُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : ادْنُوا . فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : إِنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ . قَالَ : هَذَا مِنْ خَطَرَاتِ الشَّيْطَانِ ؛ ادْنُ وَكُلْ وَكَفِّرْ يَمِينَكَ . ثُمَّ تَلَا : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ضرع ( شاید اس سے مراد ہنڈیا ہے ) کے پاس آئے اور اس میں سے کھانے لگے آپ نے حاضرین سے کہا: تم لوگ آگے آ جاؤ ، تو لوگ آگے ہو گئے ایک شخص ان میں سے پیچھے ہٹ گیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں نے ہنڈیا کو حرام قرار دیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ شیطان کا خیال ہے تم آگے آؤ اور کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے ایمان والو ! تم ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو ، جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔