مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6964
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ نَذَرَ أَنْ يَضْرِبَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ بِالسَّيْفِ ضَرْبَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے یہ نذر مانی کہ وہ تلوار کے ذریعے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ پر ضرب لگائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، علی بن زید نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔