مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدَبِ مَعَ الْحَدِيثِ . باب: حدیث کا احترام کرنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ ، فَيَقُولُ : اتْلُ عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا . مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْلَمْ أَقُلْهُ فَأَنَا أَقُولُهُ ، وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ فَإِنِّي لَا أَقُولُ الشَّرَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ عِنْدَ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس کے پاس میرے حوالے سے کوئی حدیث آئے اور وہ تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے : اس کی بجائے میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) میرے حوالے سے بھلائی کی جو بھی بات تم تک پہنچتی ہے ، خواہ وہ میں نے کہی ہو ، یا میں نے نہ کہی ہو ، تم یہی سمجھنا کہ میں نے وہ کہی ہے ، اور تمہارے پاس جو بری بات آتی ہے ، تو میں بری بات نہیں کرتا ہوں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جبکہ یہ مکمل روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومحشر نجیح ہے ، جس کو امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔