مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر ( قسم کے برخلاف کرنا ) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَحْمِلُهُ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " مَرَّتَيْنِ . فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثَةِ أَجَمَالٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا ، فَلَمَّا مَضَيْنَا قُلْتُ لِأَصْحَابِي : مَا أَرَاهُ أَنْ يُبَارَكَ لَنَا فِيهَا ، وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا . فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِيَمِينِهِ فَقَالَ : " لَمْ أَنْسَ يَمِينِي ، وَلَكِنِّي إِذَا حَلَفْتُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ تھا ، میں نے آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں سواری کے لئے جانور نہیں دوں گا ، اللہ کی قسم ! میرے پاس تمہیں دینے کے لئے سواری کا کوئی جانور ہے بھی نہیں ، یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمدہ قسم کے تین اونٹ لائے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیغام بھیجا ، اور وہ ہمیں سواری کے لئے دے دیے پھر ہم وہاں سے روانہ ہوئے ، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ ان جانوروں میں ہمارے لئے برکت نہیں رکھی جائے گی ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ حلف اٹھا لیا تھا کہ آپ ہمیں سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے ، لیکن پھر آپ نے ہمیں دے دیے ہیں ، ہم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو آپ کی قسم کے بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں اپنی قسم بھولا نہیں ہوں ، لیکن جب میں کوئی قسم اٹھا لوں اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھوں ، تو وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔