مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر ( قسم کے برخلاف کرنا ) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ " . فَلَمَّا قَفَا دَعَاهُ فَحَمَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ : " فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانور مانگا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور طرف مصروف تھے ، آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں جانور نہیں دوں گا جب سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ نے انہیں بلوایا اور سواری کے لئے انہیں جانور دیدیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے تو یہ حلف اٹھایا کہ آپ مجھے سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ میں تمہیں سواری کا جانور ضرور دوں گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔