مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِيمَا كُتِبَ بِالْأَمَانِ لِمَنْ فَعَلَهُ . باب: جو شخص ایسا کر لیتا ہے اُس کے لیے امان تحریر کئے جانے کے بارے میں کیا منقول ہے؟
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ بَعَثْتَنَا وَلَيْسَ لَنَا زَادٌ وَلَا لَنَا طَعَامٌ ، وَلَا عِلْمَ لَنَا بِالطَّرِيقِ . قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَمُرُّونَ بِرَجُلٍ صَبِيحِ الْوَجْهِ ، يُطْعِمُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ ، وَيَسْقِيكُمْ مِنَ الشَّرَابِ ، وَيَدُلُّكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ عَلَيَّ جَعَلَ يُشِيرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : يُشِيرُ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَتَنْظُرُونَ إِلَيَّ ! فَقَالُوا : أَبْشِرْ بِبُشْرَى مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ; فَإِنَّا نَعْرِفُ فِيكَ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُونِي بِمَا قَالَ ، فَأَطْعَمْتُهُمْ ، وَسَقَيْتُهُمْ ، وَزَوَّدْتُهُمْ ، وَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى دَلَلْتُهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَوْصَيْتُهُمْ بِإِبِلِي ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : مَا الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " أَدْعُو إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " ، فَقُلْتُ : إِذَا أَجَبْنَاكَ إِلَى هَذَا فَنَحْنُ آمِنُونَ عَلَى أَهْلِنَا وَأَمْوَالِنَا وَدِمَائِنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَأَسْلَمْتُ وَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَعْلَمْتُهُمْ بِإِسْلَامِي ، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيَّ بَشَرٌ كَثِيرٌ مِنْهُمْ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْمَنَاقِبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ صَخْرُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمِّهِ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمَا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم روانہ کرنے لگے ، تو ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں روانہ کرنے لگے ہیں ، لیکن ہمارے پاس نہ تو زاد سفر ہے ، اور نہ ہی اناج ہے ، اور نہ ہی ہمیں راستے کا علم ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہو گا ، جس کا چہرہ خوبصورت ہو گا ، وہ تمہیں کھانا بھی فراہم کرے گا ، اور مشروب بھی پلائے گا ، اور راستے کے بارے میں بھی بتائے گا اور وہ شخص جنتی ہو گا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ان لوگوں نے میرے پاس پڑاؤ کیا ، تو وہ ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے ، اور میری طرف دیکھنے لگے ، میں نے کہا: تم لوگ میری طرف دیکھ کر ایک دوسرے کو کیا اشارے کر رہے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا: تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے خوش خبری قبول کرو ! کیونکہ ہمیں تمہارے اندر وہ نشانی نظر آ رہی ہے ، جو اللہ کے رسول نے بیان کی تھی ، پھر ان لوگوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں بتایا ، تو میں نے انہیں کھانا فراہم کیا ، مشروب فراہم کیا ، زاد سفر دیا اور ان کے ساتھ نکل کر گیا ، یہاں تک کہ میں نے راستے کے بارے میں ان کی رہنمائی کی ، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس آیا ، انہیں اپنے اونٹوں کے بارے میں ہدایات دیں ، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہو گیا ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد ) میں نے دریافت کیا : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دیتا ہوں : کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ، اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے ، زکوۃ ادا کرنے ، بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے ( کی طرف بھی دعوت دیتا ہوں ) میں نے دریافت کیا : اگر ہم اس دعوت کو قبول کر لیتے ہیں ، تو کیا ہم اپنے اہل خانہ ، اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا ، تو ان میں سے بہت سے افراد نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ۔
( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے اور یہ مکمل روایت ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صخر بن حارث ہے جس نے اپنے چچا سے یہ روایت نقل کی ہے ، لیکن میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔