حدیث نمبر: 70
وَعَنْ عُمَيْرٍ قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى عُمَيْرٍ ذِي مَرَّانَ وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ هَمْدَانَ ، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكُمْ بَعْدَ مَقْدِمِنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ، فَأَبْشِرُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ هَدَاكُمْ بِهِدَايَتِهِ ; فَإِنَّكُمْ إِذَا شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَأَعْطَيْتُمُ الزَّكَاةَ - فَإِنَّ لَكُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، وَعَلَى أَرْضِ الرُّومِي الَّذِي أَسْلَمْتُمْ عَلَيْهَا : سَهْلِهَا ، وَغَوْرِيهَا ، وَمَرَاعِيهَا ، غَيْرُ مَظْلُومِينَ وَلَا مُضَيَّقٌ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ ، وَإِنَّ مَالِكَ بْنَ مِرَارَةَ الرَّهَاوِيَّ قَدْ حَفِظَ الْغَيْبَ ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ ، [ وَبَلَّغَ الرِّسَالَةَ ] ، فَآمُرُكَ يَا ذَا مَرَّانَ بِهِ خَيْرًا ; فَإِنَّهُ مَنْظُورٌ إِلَيْهِ فِي قَوْمِهِ ، وَلْيُحْبِبْكُمْ رَبُّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عُمَيْرِ بْنِ ذِي مَرَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمْ بِتَوْثِيقٍ وَلَا جَرْحٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ مکتوب ، اللہ کے رسول ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، عمیر ذی مُران اور ہمدان سے تعلق رکھنے والے ، ہر اس فرد کی طرف ہے ، جو اسلام قبول کر چکا ہو ، تم لوگوں پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اما بعد ! روم کی سرزمین سے ہماری واپسی پر تم لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع ہمیں ملی ، تو تم لوگ یہ خوش خبری قبول کرو ! کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنی ہدایت نصیب کی ہے جب تم لوگ اس بات کی گواہی دے دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور تم لوگ نماز قائم کرو گے ، اور زکوۃ ادا کرو گے ، تو تمہاری جانوں اور تمہارے اموال اور تمہاری وہ سرزمین جس کا تعلق روم سے ہے ، جس پر موجود رہتے ہوئے ، تم نے اسلام قبول کیا ہے ، اس کا آباد اور بے آباد حصہ اور اس کی چراگاہیں ان سب کے حوالے سے ، تم اللہ اور اس کے رسول کی پناہ میں ہو گئے ، نہ تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا ، نہ تمہیں تنگی کا شکار کیا جائے گا ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اُن کے اہل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے ، بیشک مالک بن مرارہ رہادی نے پوشیدہ چیز کی حفاظت کی ، اور امانت کو ادا کیا ( یعنی پیغام پہنچا دیا ) تو اے ذومران ! اُس کے بارے میں ، میں تمہیں بھلائی کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ وہ اپنی قوم کا ایک اہم فرد ہے ، تمہارا پروردگار تم سے محبت رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عمیر بن ذی مران کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان حضرات کا تذکرہ ، کسی توثیق یا جرح کے ہمراہ ، کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 70
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 50/17»