کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص ایسا کر لیتا ہے اُس کے لیے امان تحریر کئے جانے کے بارے میں کیا منقول ہے؟
حدیث نمبر: 67
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قُدُومُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَدَ إِلَيْهِ ، فَقَبِلَ إِسْلَامَهُ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا يَدْعُو بِهِ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَكَتَبَ لَهُ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ وَلِمَنِ اتَّبَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، أَمَانًا لَهُمْ مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ ، وَآتَوُا الزَّكَاةَ ، وَاتَّبَعُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَجَانَبُوا الْمُشْرِكِينَ ، وَأَدَّوُا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، وَسَهْمَ الْغَارِمِينَ ، وَسَهْمَ كَذَا ، وَسَهْمَ كَذَا - فَهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجُذَامِيُّ ، وَلَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن احمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی اطلاع ملی ، تو وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کوئی تحریر لکھوا دیں ، جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لئے چمڑے کے ٹکڑے پر یہ تحریر لکھوائی : ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ تحریر ، اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، مالک بن احمر کے لیے ، اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لئے ہے ، یہ ان کے لیے امان نامہ ہے ، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں گے ، زکوۃ دیتے رہیں گے ، مسلمانوں کی پیروی کرتے رہیں گے مشرکین سے لاتعلق رہیں گے ، مال غنیمت میں سے خمس ادا کریں گے ، غار میں کا حصہ ، اور فلاں حصہ ، اور فلاں حصہ ادا کریں گے ، تو یہ لوگ ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی امان ، اور اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی امان کے تحت محفوظ رہیں گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن منصور جزامی ہے ، میں اُس کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن منصور جزامی ہے ، میں اُس کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا ۔
حدیث نمبر: 68
وَعَنْ أَبِي شَدَّادٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ ذِمَارِ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى عُمَانَ - قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِ عُمَانَ : " سَلَامٌ ، أَمَّا بَعْدُ : فَأَقِرُّوا بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَدُّوا الزَّكَاةَ ، وَإِلَّا غَزَوْتُكُمْ " . قَالَ أَبُو شَدَّادٍ : فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْكِتَابَ حَتَّى وَجَدْنَا غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا الْكِتَابَ ، فَقُلْتُ لِأَبِي شَدَّادٍ : مَنْ كَانَ عَلَى أَهْلِ عُمَانَ يَلِي أَمْرَهُمْ ؟ قَالَ : إِسْوَارٌ مِنْ أَسَاوِرَةِ كِسْرَى يُقَالُ لَهُ : سُبَيْحِبَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمْ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ . قُلْتُ : وَلَيْسَ بِالتَّبُوذَكِيِّ ; لِأَنَّ هَذَا يَرْوِي عَنِ التَّابِعِينَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
حضرت ابوشداد ، جن کا تعلق عمان کی ایک بستی ” زمار سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا ، جو اہل عمان کی طرف تھا ( اس میں یہ تحریر تھا : ) ” تم لوگ اس بات کی گواہی کا اقرار کرو ! کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ، اللہ کا رسول ہوں ، تم لوگ زکوۃ ادا کرو ! ورنہ میں تمہارے ساتھ جنگ کروں گا“ ۔
سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا ، جو ہمیں وہ مکتوب پڑھ کر سناتا ، آخر کار ایک سیاہ فام لڑکا ملا ، اس نے ہمیں وہ مکتوب پڑھ کر سنایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اس وقت اہل عمان کا حکمران کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : کسریٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک گورنر تھا ، جس کا نام سبیہان تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند کے حوالے سے ، میں نے کسی کو ان راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، البتہ امام طبرانی نے یہ بات بیان کی ہے : موسیٰ بن اسماعیل اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ راوی ” تبوذ کی ، ، نہیں ہے ، کیونکہ یہ تابعین سے روایات نقل کرتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا ، جو ہمیں وہ مکتوب پڑھ کر سناتا ، آخر کار ایک سیاہ فام لڑکا ملا ، اس نے ہمیں وہ مکتوب پڑھ کر سنایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اس وقت اہل عمان کا حکمران کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : کسریٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک گورنر تھا ، جس کا نام سبیہان تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند کے حوالے سے ، میں نے کسی کو ان راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، البتہ امام طبرانی نے یہ بات بیان کی ہے : موسیٰ بن اسماعیل اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ راوی ” تبوذ کی ، ، نہیں ہے ، کیونکہ یہ تابعین سے روایات نقل کرتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 69
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ بَعَثْتَنَا وَلَيْسَ لَنَا زَادٌ وَلَا لَنَا طَعَامٌ ، وَلَا عِلْمَ لَنَا بِالطَّرِيقِ . قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَمُرُّونَ بِرَجُلٍ صَبِيحِ الْوَجْهِ ، يُطْعِمُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ ، وَيَسْقِيكُمْ مِنَ الشَّرَابِ ، وَيَدُلُّكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ عَلَيَّ جَعَلَ يُشِيرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : يُشِيرُ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَتَنْظُرُونَ إِلَيَّ ! فَقَالُوا : أَبْشِرْ بِبُشْرَى مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ; فَإِنَّا نَعْرِفُ فِيكَ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُونِي بِمَا قَالَ ، فَأَطْعَمْتُهُمْ ، وَسَقَيْتُهُمْ ، وَزَوَّدْتُهُمْ ، وَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى دَلَلْتُهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَوْصَيْتُهُمْ بِإِبِلِي ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : مَا الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " أَدْعُو إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " ، فَقُلْتُ : إِذَا أَجَبْنَاكَ إِلَى هَذَا فَنَحْنُ آمِنُونَ عَلَى أَهْلِنَا وَأَمْوَالِنَا وَدِمَائِنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَأَسْلَمْتُ وَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَعْلَمْتُهُمْ بِإِسْلَامِي ، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيَّ بَشَرٌ كَثِيرٌ مِنْهُمْ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْمَنَاقِبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ صَخْرُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمِّهِ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمَا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم روانہ کرنے لگے ، تو ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں روانہ کرنے لگے ہیں ، لیکن ہمارے پاس نہ تو زاد سفر ہے ، اور نہ ہی اناج ہے ، اور نہ ہی ہمیں راستے کا علم ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہو گا ، جس کا چہرہ خوبصورت ہو گا ، وہ تمہیں کھانا بھی فراہم کرے گا ، اور مشروب بھی پلائے گا ، اور راستے کے بارے میں بھی بتائے گا اور وہ شخص جنتی ہو گا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ان لوگوں نے میرے پاس پڑاؤ کیا ، تو وہ ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے ، اور میری طرف دیکھنے لگے ، میں نے کہا: تم لوگ میری طرف دیکھ کر ایک دوسرے کو کیا اشارے کر رہے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا: تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے خوش خبری قبول کرو ! کیونکہ ہمیں تمہارے اندر وہ نشانی نظر آ رہی ہے ، جو اللہ کے رسول نے بیان کی تھی ، پھر ان لوگوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں بتایا ، تو میں نے انہیں کھانا فراہم کیا ، مشروب فراہم کیا ، زاد سفر دیا اور ان کے ساتھ نکل کر گیا ، یہاں تک کہ میں نے راستے کے بارے میں ان کی رہنمائی کی ، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس آیا ، انہیں اپنے اونٹوں کے بارے میں ہدایات دیں ، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہو گیا ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد ) میں نے دریافت کیا : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دیتا ہوں : کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ، اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے ، زکوۃ ادا کرنے ، بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے ( کی طرف بھی دعوت دیتا ہوں ) میں نے دریافت کیا : اگر ہم اس دعوت کو قبول کر لیتے ہیں ، تو کیا ہم اپنے اہل خانہ ، اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا ، تو ان میں سے بہت سے افراد نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ۔
( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے اور یہ مکمل روایت ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صخر بن حارث ہے جس نے اپنے چچا سے یہ روایت نقل کی ہے ، لیکن میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے اور یہ مکمل روایت ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صخر بن حارث ہے جس نے اپنے چچا سے یہ روایت نقل کی ہے ، لیکن میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 70
وَعَنْ عُمَيْرٍ قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى عُمَيْرٍ ذِي مَرَّانَ وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ هَمْدَانَ ، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكُمْ بَعْدَ مَقْدِمِنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ، فَأَبْشِرُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ هَدَاكُمْ بِهِدَايَتِهِ ; فَإِنَّكُمْ إِذَا شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَأَعْطَيْتُمُ الزَّكَاةَ - فَإِنَّ لَكُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، وَعَلَى أَرْضِ الرُّومِي الَّذِي أَسْلَمْتُمْ عَلَيْهَا : سَهْلِهَا ، وَغَوْرِيهَا ، وَمَرَاعِيهَا ، غَيْرُ مَظْلُومِينَ وَلَا مُضَيَّقٌ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ ، وَإِنَّ مَالِكَ بْنَ مِرَارَةَ الرَّهَاوِيَّ قَدْ حَفِظَ الْغَيْبَ ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ ، [ وَبَلَّغَ الرِّسَالَةَ ] ، فَآمُرُكَ يَا ذَا مَرَّانَ بِهِ خَيْرًا ; فَإِنَّهُ مَنْظُورٌ إِلَيْهِ فِي قَوْمِهِ ، وَلْيُحْبِبْكُمْ رَبُّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عُمَيْرِ بْنِ ذِي مَرَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمْ بِتَوْثِيقٍ وَلَا جَرْحٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ مکتوب ، اللہ کے رسول ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، عمیر ذی مُران اور ہمدان سے تعلق رکھنے والے ، ہر اس فرد کی طرف ہے ، جو اسلام قبول کر چکا ہو ، تم لوگوں پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اما بعد ! روم کی سرزمین سے ہماری واپسی پر تم لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع ہمیں ملی ، تو تم لوگ یہ خوش خبری قبول کرو ! کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنی ہدایت نصیب کی ہے جب تم لوگ اس بات کی گواہی دے دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور تم لوگ نماز قائم کرو گے ، اور زکوۃ ادا کرو گے ، تو تمہاری جانوں اور تمہارے اموال اور تمہاری وہ سرزمین جس کا تعلق روم سے ہے ، جس پر موجود رہتے ہوئے ، تم نے اسلام قبول کیا ہے ، اس کا آباد اور بے آباد حصہ اور اس کی چراگاہیں ان سب کے حوالے سے ، تم اللہ اور اس کے رسول کی پناہ میں ہو گئے ، نہ تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا ، نہ تمہیں تنگی کا شکار کیا جائے گا ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اُن کے اہل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے ، بیشک مالک بن مرارہ رہادی نے پوشیدہ چیز کی حفاظت کی ، اور امانت کو ادا کیا ( یعنی پیغام پہنچا دیا ) تو اے ذومران ! اُس کے بارے میں ، میں تمہیں بھلائی کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ وہ اپنی قوم کا ایک اہم فرد ہے ، تمہارا پروردگار تم سے محبت رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عمیر بن ذی مران کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان حضرات کا تذکرہ ، کسی توثیق یا جرح کے ہمراہ ، کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عمیر بن ذی مران کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان حضرات کا تذکرہ ، کسی توثیق یا جرح کے ہمراہ ، کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 71
وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَطَاءٍ الْعَامِرِيُّ كِتَابًا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : اكْتُبُوهُ ، وَلَمْ يُمْلِهِ عَلَيْنَا . زَعَمَ أَنَّ ابْنَهُ الْفُجَيْعَ حَدَّثَهُ بِهِ . ¤ " هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْفُجَيْعِ وَمَنْ مَعَهُ . وَمَنْ أَسْلَمَ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَأَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَأَعْطَى مِنَ الْمَغْنَمِ خُمُسَ اللَّهِ ، وَنَصَرَ نَبِيَّ اللَّهِ ، وَأَشْهَدَ عَلَى إِسْلَامِهِ ، وَفَارَقَ الْمُشْرِكِينَ - فَإِنَّهُ آمِنٌ بِأَمَانِ اللَّهِ وَمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابونعیم بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن عطاء عمری نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب نکال کر دکھایا اور بولے : تم لوگ اسے نوٹ کر لو ! انہوں نے اس کی عبارت ہمیں املاء نہیں کروائی ، اُن کا یہ کہنا تھا : ان کے فجیمع نے انہیں اس کے بارے میں حدیث بیان کی ہے ( اس مکتوب میں یہ تحریر تھا : ) ” یہ اللہ کے رسول ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فجیمع اور اس کے ساتھیوں کے نام مکتوب ہے ، جس نے بھی اسلام قبول کیا ، نماز قائم کی ، زکوۃ ادا کی ، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ، مال غنیمت میں سے اللہ تعالیٰ کا پانچواں حصہ ادا کیا ، اللہ کے نبی کی مدد کی ، اس نے اپنے اسلام پر گواہ بنایا ، مشرکین سے لاتعلقی اختیار کی ، تو وہ اللہ تعالیٰ اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امان کے تحت محفوظ شمار ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 72
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَحْمَرَ الْمَازِنِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي إِبِلِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْعَاهَا ، فَأَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَجَمَعْتُ إِبِلِي وَرَكِبْتُ الْفَحْلَ فَتَفَاجَّ يَبُولُ ، فَنَزَلْتُ عَنْهُ ، وَرَكِبْتُ نَاقَةً ، فَنَجَوْتُ عَلَيْهَا ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ فَرَدَّهَا عَلَيَّ ، وَلَمْ يَكُونُوا اقْتَسَمُوهَا . قَالَ جَوَّابُ بْنُ عُمَارَةَ : فَأَدْرَكْتُ أَنَا وَأَخِي النَّاقَةَ الَّتِي رَكِبَهَا عُمَارَةُ يَوْمَئِذٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ قُتَيْلَةُ بِنْتُ جُمَيْعٍ عَنْ يَزِيدِ بْنِ صَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَلَمْ أَرَ أَحَدًا تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمارہ بن احمر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں اپنے اونٹ چرا رہا تھا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہہ سواروں نے ہم پر حملہ کر دیا ، میں نے اپنے اونٹ جمع کئے اور ایک اونٹ پر سوار ہوا ، تو وہ پیشاب کرنے کے لئے رک گیا ، میں اس سے نیچے اترا ، اور اونٹنی پر سوار ہو گیا ، جس کی وجہ سے میں بچ گیا ، وہ لوگ میرے اونٹ ہانک کر لے گئے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اونٹ مجھے واپس کر دیئے ، جو ان لوگوں نے ابھی تقسیم نہیں کیے تھے ۔ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے جواب بن عمارہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور میرے بھائی نے وہ اونٹنی دیکھی ہے ، جس پر سوار ہو کر سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں قتیلہ بنت جمیع ہے ، جس نے یزید بن صیف کے حوالے سے ان کے والد سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں نے ان میں سے کسی کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔(یعنی یہ مجہول راوی ہیں)
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں قتیلہ بنت جمیع ہے ، جس نے یزید بن صیف کے حوالے سے ان کے والد سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں نے ان میں سے کسی کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔(یعنی یہ مجہول راوی ہیں)