حدیث نمبر: 6845
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " نُوَيْبِتَةٌ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ ؟ . قَالَ : " لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ ، فَقَالَ : أَعِرْنِي حِذَاءَكَ . قُلْتُ : أُعِيرُكُهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ . قَالَ : قَدْ زَوَّجْتُكَهَا . فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَهَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ : لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " . ¤ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذَرْتُ نَذْرًا أَنْ أَنْحَرَ ذُودًا لِي عَلَى صَنَمٍ لِي مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، وَلَا تَأْثَمْ بِرَبِّكَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوَرَقُ يُوجَدُ عِنْدَ الْقَرْيَةِ الْعَامِرَةِ أَوِ الطَّرِيقِ الْمَأْتِيِّ ؟ قَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِلَّا فَأَحْصِ وِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا وَعَدَدَهَا ، ثُمَّ اسْتَمْتَعَ بِهَا " . ¤ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ الشَّاةُ نَجِدُهَا بِأَرْضِ الْفَلَاةِ ؟ قَالَ : " كُلْهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . ¤ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ النَّاقَةُ أَوِ الْبَعِيرُ تُوجَدُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ عَلَيْهَا الْوِعَاءُ وَالسِّقَاءُ . قَالَ : " خَلِّ عَنْهَا مَا لَكَ وَلَهَا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَبَعْضُهُ فِي السُّنَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : چھوٹا معاملہ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ معاملہ بھلائی والا ہے ، یا برائی والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ بھلائی والا ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے چچا کے ساتھ سفر پر نکلا ، انہیں جوتوں کی ضرورت پڑ گئی ، انہوں نے مجھ سے کہا: تم مجھے جوتے عاریت کے طور پر دے دو ، میں نے کہا: اس شرط پر میں آپ کو عاریت کے طور پر دوں گا کہ آپ میری شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دیں گے ، انہوں نے کہا: میں نے اس کے ساتھ تمہاری شادی کر دی ، جب ہم گھر پہنچ گئے ، تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور بولے : تمہارے لیے ہمارے پاس کوئی عورت نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے اس ( عورت ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! زمانہ جاہلیت میں ، میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں اپنے اونٹ کو اپنے بت پر قربان کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی نذر پوری کر لو لیکن تم اپنے پروردگار کی نافرمانی نہ کرو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : معصیت کے بارے میں ، قطع رحمی کے بارے میں ، اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، اُس کے بارے میں نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہوتا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک چاندی ، جو آباد بستی کے پاس یا عام گزرگاہ میں ملتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو ، اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ تم اس کے سپرد کر دو گے ، ورنہ تم اس کے بندھن ، اس کی تھیلی اور اس کی تعداد کو شمار کر لو گے اور پھر اس کو استعمال کر لو گے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! اگر بے آب و گیاہ جگہ پر ایک بکری مل جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کھا لینا ، کیونکہ وہ ، یا تو تمہیں ملے گی ، یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی ، یا بھیڑیے کو ملے گی ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! کوئی اونٹنی یا اونٹ بے آب و گیاہ جگہ پر مل جاتے ہیں اور اس جانور پر مشکیزہ اور دیگر سامان موجود ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے ویسے ہی رہنے دینا ، تمہارا اس کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس کا کچھ حصہ ” سنن“ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ سنان بن یزید ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6845
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226/22)»