مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اللُّقَطَةِ . باب: گمشدہ ملنے والی چیز کا بیان
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشَّاةِ قَالَ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . ¤ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبَعِيرِ ، وَكَانَ إِذَا غَضِبَ عُرِفَ ذَلِكَ فِي حُمْرَةِ وَجْنَتِهِ، قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهُ ؟ مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ يَرِدُ الْمَاءَ وَيَصْدُرُ الْكَلَأَ ، خَلِّ سَبِيلَهُ حَتَّى يَلْقَاهُ رَبُّهُ " . ¤ وَسَأَلْتُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ : " عَرِّفْهَا ، ثُمَّ أَوْثِقْ وِكَاءَهَا وَصِرَارَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعُقْبَةُ بْنُ سُوَيْدٍ مَسْتُورٌ لَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عقبہ بن سوید ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا : وہ یا تمہیں ملے گی ، یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی ، یا بھیڑیے کو ملے گی ، میں نے آپ سے اونٹ کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ غصے میں آ گئے ، جب آپ غصے میں آتے تھے ، تو آپ کے کنپٹیوں پر سرخی سے اس کا پتہ چل جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ اس کا پیٹ اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ، وہ پانی تک چلا جائے گا ، گھاس تک پہنچ جائے گا ، تم اس کا راستہ چھوڑ دو ، یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے ۔ میں نے آپ سے گمشدہ چیز کے ملنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا : تم اس کی پہچان کر کے ، اُس کے منہ اور تھیلی کو باندھ دو ، اگر اس کا مالک آ جائے ، تو وہ اسے ادا کر دینا ، ورنہ تم اسے استعمال کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عقبہ بن سوید نامی راوی مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔