حدیث نمبر: 6837
عَنِ الْجَارُودِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - أَوْ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا ؟ قَالَ : " انْشُدْهَا ، وَلَا تَكْتُمْ ، وَلَا تُغَيِّبْ ، فَإِنْ وَجَدْتَ رَبَّهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( راوی کو شک ہے ) یا کسی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہمیں کوئی گمشدہ چیز مل جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کا اعلان کرو ، تم اسے چھپاؤ نہیں ، تم اسے پوشیدہ نہ رکھو ، اگر اس کا مالک مل جاتا ہے ، تو وہ اس کے سپرد کر دو ، ورنہ یہ وہ مال ہے ، جسے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ، دے دیتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 6838
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الْجَارُودِ أَيْضًا قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ . إِذَا تَذَكَّرَ الْقَوْمُ الظَّهْرَ . فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ عَلِمْتَ مَا تَلَقَّيْنَاهُ مِنَ الظَّهْرِ . قَالَ : " وَمَا يَكْفِينَا ؟ " . قُلْتُ : ذُودٌ نَأْتِي عَلَيْهِ فِي جَرْفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ . قَالَ : " لَا ؛ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا يَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا يَقْرَبَنَّهَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ یہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، سواری کے جانور کم تھے ، اسی دوران لوگوں نے سواری کے جانوروں کا ذکر کیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانوروں کے حوالے سے ہمیں جو صورت حال لاحق ہے ، وہ آپ کے علم میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا چیز ہمارے لئے کفایت کر سکتی ہے ؟ میں نے عرض کی : جرف کے مقام پر جب ہم آئیں گے تو کچھ اونٹ ملیں گے ، اگر ہم ان کی پشتوں کے ذریعے نفع حاصل کر لیں ( یعنی سواری کے استعمال میں لے آئیں ، تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ، اس کے ہرگز قریب نہیں جانا ، مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ، اس کے ہرگز قریب نہیں جانا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6839
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ : " تُعَرَّفُ ، وَلَا تُغَيَّبُ ، وَلَا تُكْتَمُ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اس کا اعلان کیا جائے گا ، اسے پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا ، اسے چھپایا نہیں جائے گا ، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ یہ اللہ کا مال ہے ، وہ یہ مال جسے چاہے دیدیتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6840
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6841
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا ؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا - أَوْ سِقَاؤُهُ - وَحِذَاؤُهُ ، دَعْهُ حَتَّى يَجِدَهُ رَبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں ملے گی ، یا تمہارے بھائی کو ملے گی ، یا بھیڑیئے کو مل جائے گی ، آپ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : تمہارا اُس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے ، اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ، تم اسے ایسے ہی رہنے دو ، یہاں تک کہ اس کا مالک اُس کو پا لے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6842
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ اللُّقَطَةُ . مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ ، فَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ فَلْيُخَيِّرْهُ بَيْنَ الْأَجْرِ وَبَيْنَ الَّذِي لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گمشدہ ملنے والی چیز حلال نہیں ہے ، جو شخص ایسی کوئی چیز اٹھاتا ہے وہ اس کا اعلان کرے گا ، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ اس چیز کو اس کے حوالے کر دے گا اور اگر اس کا مالک نہیں آتا ، تو پھر وہ اس چیز کو صدقہ کر دے گا ، پھر اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ اس مالک کو اجر ، یا اس چیز کو واپس کیے جانے کے درمیان اختیار دیدے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 6843
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : اشْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَارِيَةً مِنْ رَجُلٍ بِسِتِّمِائَةٍ أَوْ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَنَشَدَهُ سَنَةً لَا يَجِدُهُ ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا إِلَى الشِّدَّةِ فَتَصَدَّقَ بِهَا مِنْ دِرْهَمٍ وَدِرْهَمَيْنِ عَنْ رَبِّهَا ، فَإِنْ جَاءَ [ صَاحِبُهَا ] خَيَّرَهُ ، فَإِنِ اخْتَارَ الْأَجْرَ كَانَ لَهُ ، وَإِنِ اخْتَارَ مَالَهُ كَانَ لَهُ مَالُهُ . ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : هَكَذَا فَافْعَلُوا بِاللُّقَطَةِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالنَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے چھ سو ، یا شاید سات سو درہم کے عوض میں ایک کنیز خریدی ، پھر وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہے ، لیکن وہ مالک انہیں نہیں ملا ، پھر وہ اس کنیز کو لے کر شدت کی طرف گئے اور ایک یا دو درہم کے عوض میں اس کے مالک کی طرف سے اسے صدقہ کر دیا ، اگر اس کا مالک آیا ، تو وہ اس کو اختیار دے دیں گے ، اگر وہ اجر کو اختیار کر لے گا ، تو وہ اسے مل جائے گا اور اگر وہ مال کو اختیار کرے گا ، تو وہ مال اسے ملے گا ، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گمشدہ ملنے والی چیز کے ساتھ تمہیں اس طرح کرو ! ( یہاں مطبوعہ عربی متن میں بھی اسی طرح مذکور ہے ، لیکن شاید ناسخ یا کاتب سے سہو ہوا ہے ، کیونکہ روایت مکمل اور مربوط نہیں ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے ابن حبان نے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے ابن حبان نے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6844
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشَّاةِ قَالَ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . ¤ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبَعِيرِ ، وَكَانَ إِذَا غَضِبَ عُرِفَ ذَلِكَ فِي حُمْرَةِ وَجْنَتِهِ، قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهُ ؟ مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ يَرِدُ الْمَاءَ وَيَصْدُرُ الْكَلَأَ ، خَلِّ سَبِيلَهُ حَتَّى يَلْقَاهُ رَبُّهُ " . ¤ وَسَأَلْتُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ : " عَرِّفْهَا ، ثُمَّ أَوْثِقْ وِكَاءَهَا وَصِرَارَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعُقْبَةُ بْنُ سُوَيْدٍ مَسْتُورٌ لَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن سوید ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا : وہ یا تمہیں ملے گی ، یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی ، یا بھیڑیے کو ملے گی ، میں نے آپ سے اونٹ کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ غصے میں آ گئے ، جب آپ غصے میں آتے تھے ، تو آپ کے کنپٹیوں پر سرخی سے اس کا پتہ چل جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ اس کا پیٹ اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ، وہ پانی تک چلا جائے گا ، گھاس تک پہنچ جائے گا ، تم اس کا راستہ چھوڑ دو ، یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے ۔ میں نے آپ سے گمشدہ چیز کے ملنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا : تم اس کی پہچان کر کے ، اُس کے منہ اور تھیلی کو باندھ دو ، اگر اس کا مالک آ جائے ، تو وہ اسے ادا کر دینا ، ورنہ تم اسے استعمال کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عقبہ بن سوید نامی راوی مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عقبہ بن سوید نامی راوی مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6845
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " نُوَيْبِتَةٌ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ ؟ . قَالَ : " لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ ، فَقَالَ : أَعِرْنِي حِذَاءَكَ . قُلْتُ : أُعِيرُكُهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ . قَالَ : قَدْ زَوَّجْتُكَهَا . فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَهَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ : لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " . ¤ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذَرْتُ نَذْرًا أَنْ أَنْحَرَ ذُودًا لِي عَلَى صَنَمٍ لِي مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، وَلَا تَأْثَمْ بِرَبِّكَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوَرَقُ يُوجَدُ عِنْدَ الْقَرْيَةِ الْعَامِرَةِ أَوِ الطَّرِيقِ الْمَأْتِيِّ ؟ قَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِلَّا فَأَحْصِ وِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا وَعَدَدَهَا ، ثُمَّ اسْتَمْتَعَ بِهَا " . ¤ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ الشَّاةُ نَجِدُهَا بِأَرْضِ الْفَلَاةِ ؟ قَالَ : " كُلْهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . ¤ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ النَّاقَةُ أَوِ الْبَعِيرُ تُوجَدُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ عَلَيْهَا الْوِعَاءُ وَالسِّقَاءُ . قَالَ : " خَلِّ عَنْهَا مَا لَكَ وَلَهَا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَبَعْضُهُ فِي السُّنَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : چھوٹا معاملہ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ معاملہ بھلائی والا ہے ، یا برائی والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ بھلائی والا ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے چچا کے ساتھ سفر پر نکلا ، انہیں جوتوں کی ضرورت پڑ گئی ، انہوں نے مجھ سے کہا: تم مجھے جوتے عاریت کے طور پر دے دو ، میں نے کہا: اس شرط پر میں آپ کو عاریت کے طور پر دوں گا کہ آپ میری شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دیں گے ، انہوں نے کہا: میں نے اس کے ساتھ تمہاری شادی کر دی ، جب ہم گھر پہنچ گئے ، تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور بولے : تمہارے لیے ہمارے پاس کوئی عورت نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے اس ( عورت ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! زمانہ جاہلیت میں ، میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں اپنے اونٹ کو اپنے بت پر قربان کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی نذر پوری کر لو لیکن تم اپنے پروردگار کی نافرمانی نہ کرو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : معصیت کے بارے میں ، قطع رحمی کے بارے میں ، اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، اُس کے بارے میں نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہوتا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک چاندی ، جو آباد بستی کے پاس یا عام گزرگاہ میں ملتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو ، اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ تم اس کے سپرد کر دو گے ، ورنہ تم اس کے بندھن ، اس کی تھیلی اور اس کی تعداد کو شمار کر لو گے اور پھر اس کو استعمال کر لو گے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! اگر بے آب و گیاہ جگہ پر ایک بکری مل جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کھا لینا ، کیونکہ وہ ، یا تو تمہیں ملے گی ، یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی ، یا بھیڑیے کو ملے گی ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! کوئی اونٹنی یا اونٹ بے آب و گیاہ جگہ پر مل جاتے ہیں اور اس جانور پر مشکیزہ اور دیگر سامان موجود ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے ویسے ہی رہنے دینا ، تمہارا اس کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس کا کچھ حصہ ” سنن“ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ سنان بن یزید ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ سنان بن یزید ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6846
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ كِتَابٍ يُلْقَى بِمَضْيَعَةٍ مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَائِكَةً يَحُفُّونَهُ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُقَدِّسُونَهُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ وَلِيًّا مِنْ أَوْلِيَائِهِ يَرْفَعُهُ مِنَ الْأَرْضِ وَمَنْ رَفَعَ كِتَابًا فِيهِ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ رَفَعَ اللَّهُ اسْمَهُ فِي عِلِّيِّينَ وَخَفَّفَ عَنْ وَالِدَيْهِ الْعَذَابَ ، وَإِنْ كَانَا كَافِرَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی تحریر زمین پر گر جاتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتوں کو بھیج دیتا ہے ، تو وہ اپنے پروں کے ذریعے اسے ڈھانپ دیتے ہیں اور اسے پاک و صاف کر دیتے ہیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں میں سے ایک ولی اس کی طرف بھیج دیتا ہے ، جو اسے زمین سے اٹھاتا ہے ، اور جو شخص بھی ایسی تحریر اٹھاتا ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی اسم موجود ہو تو اللہ تعالیٰ ” علیین “ میں اس کا نام بلند کرتا ہے ، اور اس کے ماں باپ سے عذاب میں تخفیف کر دیتا ہے ، اگرچہ اس کے ماں باپ کافر ہی کیوں نہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6847
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً دِرْهَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، فَإِنْ كَانَ عَمْرًا فَلَا أَعْرِفُهُ ، وَإِنْ كَانَ عُمَرَ فَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص معمولی سی گمشدہ چیز اٹھا لیتا ہے ، جو ایک درہم ہو ، یا رسی ہو ، یا اس کی مانند کوئی ہو ، تو وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے گا ، اور اگر اس سے اوپر کوئی چیز ہو ، تو پھر وہ چھ دن تک اس کا اعلان کرے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے عمرو بن عبداللہ بن یعلی کے حوالے سے نقل کی ہے اگر تو یہ عمرو ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اگر یہ عمر ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے عمرو بن عبداللہ بن یعلی کے حوالے سے نقل کی ہے اگر تو یہ عمرو ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اگر یہ عمر ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6848
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً ثَوْبًا أَوْ شَبْهَهُ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَمَنِ الْتَقَطَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سِتَّةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلْيُخَيِّرْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی معمولی سی گمشدہ چیز کو پاتا ہے جیسے کپڑا یا اس کی مانند کوئی چیز ہے ، تو پھر وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے گا اور جو اس سے زیادہ قیمت والی کوئی گمشدہ چیز پاتا ہے ، تو وہ چھ دن تک اعلان کرے گا اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اس کو صدقہ کر دے گا پھر اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ شخص اس کو اختیار دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6849
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فِي السُّوقِ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " عَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " . قَالَ : فَعَرَّفَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : " شَأْنُكَ " . قَالَ : فَبَاعَهُ عَلِيٌّ فَابْتَاعَ مِنْهُ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ شَعِيرًا وَبِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ تَمْرًا ، وَقَضَى ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ ، وَابْتَاعَ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا ، وَابْتَاعَ بِدِرْهَمٍ زَيْتًا . وَكَانَ الدِّينَارُ بِأَحَدَ عَشَرَ دِرْهَمًا . ¤ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَاءَ صَاحِبُهُ فَعَرَفَهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : قَدْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَانْطَلَقَ صَاحِبُ الدِّينَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " رُدَّهُ " . قَالَ : قَدْ أَكَلْتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ : " إِذَا جَاءَنَا شَيْءٌ أَدَّيْنَاهُ إِلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک دینار پایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم تین دن تک اس کا اعلان کرو راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین دن تک اس کا اعلان کیا لیکن انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اس کی شناخت کر لیتا وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : تم اسے استعمال کر لو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے فروخت کر دیا اور اس میں سے تین درہم کے جو خرید لئے تین درہم کی کھجوریں خرید لیں تین درہم کا قرض ادا کر دیا ایک درہم کا گوشت خرید لیا ایک درہم کا زیتون کا تیل خرید لیا ان دنوں ایک دینار گیارہ درہم کا ہوتا ہے اس کے بعد اس دینار کا مالک آ گیا اور اس نے اس دینار کی شناخت بیان کر دی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے رسول نے مجھے حکم دیا تھا ( تو میں نے اسے خرچ کر لیا ) دینار کا مالک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ تو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اسے واپس کرو انہوں نے عرض کی : میں نے تو وہ خرچ کر لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جب ہمارے پاس کوئی چیز آے گی تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے امام ابوداؤد نے اس سے اختصار کے ساتھ اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ روایت ایجاد کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے امام ابوداؤد نے اس سے اختصار کے ساتھ اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ روایت ایجاد کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 6850
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ تَمْرَتَيْنِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي الْأُخْرَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ ثُفْرُوقَةً فِيهَا تَمْرَتَانِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي تَمْرَةً . ¤ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں پائیں آپ نے ایک کھجور لے لی اور دوسری مجھے دے دی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ” ثقروفہ “ پایا ( ثقروفہ سے مراد کھجور کا ایسا گچھا ہے ، جس میں سے کھجوریں کھا لی گئی ہوں اور کچھ باقی رہ گئی ہوں ) جس میں دو کھجوریں تھیں ، تو ایک کھجور آپ نے لے لی اور ایک مجھے عطا کر دی ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طائفی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ” ثقروفہ “ پایا ( ثقروفہ سے مراد کھجور کا ایسا گچھا ہے ، جس میں سے کھجوریں کھا لی گئی ہوں اور کچھ باقی رہ گئی ہوں ) جس میں دو کھجوریں تھیں ، تو ایک کھجور آپ نے لے لی اور ایک مجھے عطا کر دی ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طائفی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 6851
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لِأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً فَآخُذُهَا فَآكُلُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ النَّبْقِيُّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بعض اوقات میں کوئی گری ہوئی کھجور پاتا ہوں تو اسے کھا لیتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی فرماتے ہیں : محمد بن علاء نبقی ، ولید بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں منفرد ہیں میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی فرماتے ہیں : محمد بن علاء نبقی ، ولید بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں منفرد ہیں میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔