مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اللُّقَطَةِ . باب: گمشدہ ملنے والی چیز کا بیان
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : اشْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَارِيَةً مِنْ رَجُلٍ بِسِتِّمِائَةٍ أَوْ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَنَشَدَهُ سَنَةً لَا يَجِدُهُ ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا إِلَى الشِّدَّةِ فَتَصَدَّقَ بِهَا مِنْ دِرْهَمٍ وَدِرْهَمَيْنِ عَنْ رَبِّهَا ، فَإِنْ جَاءَ [ صَاحِبُهَا ] خَيَّرَهُ ، فَإِنِ اخْتَارَ الْأَجْرَ كَانَ لَهُ ، وَإِنِ اخْتَارَ مَالَهُ كَانَ لَهُ مَالُهُ . ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : هَكَذَا فَافْعَلُوا بِاللُّقَطَةِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالنَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے چھ سو ، یا شاید سات سو درہم کے عوض میں ایک کنیز خریدی ، پھر وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہے ، لیکن وہ مالک انہیں نہیں ملا ، پھر وہ اس کنیز کو لے کر شدت کی طرف گئے اور ایک یا دو درہم کے عوض میں اس کے مالک کی طرف سے اسے صدقہ کر دیا ، اگر اس کا مالک آیا ، تو وہ اس کو اختیار دے دیں گے ، اگر وہ اجر کو اختیار کر لے گا ، تو وہ اسے مل جائے گا اور اگر وہ مال کو اختیار کرے گا ، تو وہ مال اسے ملے گا ، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گمشدہ ملنے والی چیز کے ساتھ تمہیں اس طرح کرو ! ( یہاں مطبوعہ عربی متن میں بھی اسی طرح مذکور ہے ، لیکن شاید ناسخ یا کاتب سے سہو ہوا ہے ، کیونکہ روایت مکمل اور مربوط نہیں ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے ابن حبان نے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔