مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اللُّقَطَةِ . باب: گمشدہ ملنے والی چیز کا بیان
حدیث نمبر: 6842
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ اللُّقَطَةُ . مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ ، فَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ فَلْيُخَيِّرْهُ بَيْنَ الْأَجْرِ وَبَيْنَ الَّذِي لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گمشدہ ملنے والی چیز حلال نہیں ہے ، جو شخص ایسی کوئی چیز اٹھاتا ہے وہ اس کا اعلان کرے گا ، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ اس چیز کو اس کے حوالے کر دے گا اور اگر اس کا مالک نہیں آتا ، تو پھر وہ اس چیز کو صدقہ کر دے گا ، پھر اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ اس مالک کو اجر ، یا اس چیز کو واپس کیے جانے کے درمیان اختیار دیدے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔