❮
❯
حدیث نمبر: 6841
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " .
وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا ؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا - أَوْ سِقَاؤُهُ - وَحِذَاؤُهُ ، دَعْهُ حَتَّى يَجِدَهُ رَبُّهُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں ملے گی ، یا تمہارے بھائی کو ملے گی ، یا بھیڑیئے کو مل جائے گی ، آپ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : تمہارا اُس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے ، اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ، تم اسے ایسے ہی رہنے دو ، یہاں تک کہ اس کا مالک اُس کو پا لے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6841
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1364) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (192) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 192، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 6001، 6033، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 8947»