مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَرَّ عَلَى بُسْتَانٍ أَوْ مَاشِيَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی باغ یا جانور کے پاس سے گزرتا ہے
وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ : أَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ . قَالَ : فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا : لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ تَمْرِ حَوَائِطِهَا قَالَ : فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ ، فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ : " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَالَ : " خُذْهُ " وَأَعْطِ صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ ، وَخَلَّ سَبِيلِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَاقْتَطَعْتُ قِنْوَيْنِ مِنْ نَخْلَةٍ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقُلْ لِي : " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ " . فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَأَمَرَنِي فَأَخَذْتُهُ وَأَعْطَى صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ . ¤سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا آبی اللحم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا کے ساتھ آیا ، ہمارا ہجرت کرنے کا ارادہ تھا ، جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے ، تو ان لوگوں نے مجھے اپنے جانوروں میں پیچھے چھوڑ دیا ، راوی کہتے ہیں : مجھے شدید بھوک لگی میرے پاس سے ایک ایسا شخص گزرا ، جو مدینہ سے نکل کے آیا تھا ، اس نے کہا: اگر تم مدینہ میں چلے جاؤ اور وہاں کی باغ کی کھجوریں حاصل کر لو تو یہ مناسب ہو گا ، راوی کہتے ہیں : میں ایک باغ میں داخل ہوا ، میں نے وہاں سے دو گچھے توڑ لیے ، باغ کا مالک میرے پاس آیا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ، اس نے میرے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، میرے جسم پر دو کپڑے تھے ، آپ نے دریافت کیا : ان دونوں میں سے کون سا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ( یعنی کون سا بہتر ہے ؟ ) میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف سے اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لے لو اور دوسرا کپڑا باغ کے مالک کو دے دو اور تم اس کا راستہ چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے کھجور کے درخت کے دو گچھے کاٹ لیے ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان دونوں میں کون سا زیادہ بہتر ہے ؟ تو میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا ، تو آپ نے مجھے یہ حکم دیا کہ وہ میں لے لوں اور دوسرے والا باغ کے مالک کو دے دوں ۔