حدیث نمبر: 6818
- وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَحِلُّ لِأَحَدِنَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ؟ قَالَ : " يَأْكُلُ وَلَا يَحْمِلُ ، وَيَشْرَبُ وَلَا يَحْمِلُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي الْإِسْنَادَيْنِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اپنے بھائی کے مال میں سے ہم میں سے کسی ایک کے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ خود اس میں سے کھا لے ، لیکن وہ ساتھ رکھ کر نہ لے جائے ، اور وہ پی لے ، لیکن ساتھ رکھ کر نہ لے جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6818
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1326 و1327)»