کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی باغ یا جانور کے پاس سے گزرتا ہے
حدیث نمبر: 6816
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ، فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا ، فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِيَةَ أَوِ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ ، فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ سَقَوْكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا ، فَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ - قَالَ أَبُو النَّضْرِ : وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ - فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ، ثُمَّ اشْرَبُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اونٹنی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کے تھن کو کھولے ، کیونکہ اس پر ان لوگوں کی مہر لگی ہوئی ہے ، اور جب تم کسی ویرانے میں ہو اور پھر تم دودھ کا کوئی مشکیزہ دیکھو ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) تو اونٹوں والے افراد کو تین مرتبہ پکارو ، اگر وہ تمہیں پلا دیتے ہیں ، تو تم پی لو ! ورنہ نہیں ، اور اگر تم مرمل ہو ۔ ابونضر کہتے ہیں : یعنی تمہارے پاس کھانا نہ ہو ۔ تو تم میں سے دو آدمی اسے پکڑ لیں اور پھر تم پی لو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6817
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَرْمَلْنَا ، وَأَنْفَضْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ فَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتٌ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ " ثُمَّ قَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا ، وَلَا تَحْمِلُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا ، ہم ایک اونٹ کے پاس آئے ، جسے درخت کی چھال کے ذریعے مصرور کیا گیا ، لوگ اس کی طرف لپکے تاکہ اس کا دودھ نکالیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ہو سکتا ہے اس جانور میں مسلمانوں کے کسی گھرانے کی خوراک ہو ، کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ یہ لوگ اس جگہ کے پاس آئیں ، جہاں تمہارا کھانا پینا رکھا ہوا ہو اور اسے حاصل کر لیں ؟ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم مجبور ہو جاؤ ، تو صرف پی لو ، اپنے ساتھ لاد کر نہ لے جانا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6818
- وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَحِلُّ لِأَحَدِنَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ؟ قَالَ : " يَأْكُلُ وَلَا يَحْمِلُ ، وَيَشْرَبُ وَلَا يَحْمِلُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي الْإِسْنَادَيْنِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اپنے بھائی کے مال میں سے ہم میں سے کسی ایک کے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ خود اس میں سے کھا لے ، لیکن وہ ساتھ رکھ کر نہ لے جائے ، اور وہ پی لے ، لیکن ساتھ رکھ کر نہ لے جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6819
وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ : أَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ . قَالَ : فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا : لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ تَمْرِ حَوَائِطِهَا قَالَ : فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ ، فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ : " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَالَ : " خُذْهُ " وَأَعْطِ صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ ، وَخَلَّ سَبِيلِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَاقْتَطَعْتُ قِنْوَيْنِ مِنْ نَخْلَةٍ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقُلْ لِي : " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ " . فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَأَمَرَنِي فَأَخَذْتُهُ وَأَعْطَى صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا آبی اللحم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا کے ساتھ آیا ، ہمارا ہجرت کرنے کا ارادہ تھا ، جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے ، تو ان لوگوں نے مجھے اپنے جانوروں میں پیچھے چھوڑ دیا ، راوی کہتے ہیں : مجھے شدید بھوک لگی میرے پاس سے ایک ایسا شخص گزرا ، جو مدینہ سے نکل کے آیا تھا ، اس نے کہا: اگر تم مدینہ میں چلے جاؤ اور وہاں کی باغ کی کھجوریں حاصل کر لو تو یہ مناسب ہو گا ، راوی کہتے ہیں : میں ایک باغ میں داخل ہوا ، میں نے وہاں سے دو گچھے توڑ لیے ، باغ کا مالک میرے پاس آیا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ، اس نے میرے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، میرے جسم پر دو کپڑے تھے ، آپ نے دریافت کیا : ان دونوں میں سے کون سا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ( یعنی کون سا بہتر ہے ؟ ) میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف سے اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لے لو اور دوسرا کپڑا باغ کے مالک کو دے دو اور تم اس کا راستہ چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے کھجور کے درخت کے دو گچھے کاٹ لیے ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان دونوں میں کون سا زیادہ بہتر ہے ؟ تو میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا ، تو آپ نے مجھے یہ حکم دیا کہ وہ میں لے لوں اور دوسرے والا باغ کے مالک کو دے دوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے کھجور کے درخت کے دو گچھے کاٹ لیے ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان دونوں میں کون سا زیادہ بہتر ہے ؟ تو میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا ، تو آپ نے مجھے یہ حکم دیا کہ وہ میں لے لوں اور دوسرے والا باغ کے مالک کو دے دوں ۔
حدیث نمبر: 6820
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : عَنْ عُمَيْرٍ أَيْضًا قَالَ : كُنْتُ أَرْعَى بِذَاتِ الْجَيْشِ فَأَصَابَتْنِي خَصَاصَةٌ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِبَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَلُّونِي عَلَى حَائِطٍ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ أَقْنَاءً ، فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي ، فَأَعْطَانِي قِنْوًا وَاحِدًا ، وَرَدَّ سَائِرَهَا إِلَى أَهْلِهِ . ¤ وَإِسْنَادُ الثَّانِي فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤ وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ فِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُهَاجِرِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی نقل کردہ ایک روایت ، جو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے ، اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں ذات الجیش کے مقام پر جانوروں کو چرا رہا تھا ، مجھے بھوک لاحق ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے میں نے یہ بات ذکر کی ، تو انہوں نے مجھے ایک انصاری کے باغ کے بارے میں بتایا ، میں نے اس میں سے کچھ گچھے توڑ لئے ، انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حاجت مند ہونے کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گچھہ مجھے عطا کر دیا اور باقی سب اس کے مالک کو واپس کر دیے ۔ دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ پہلی روایت کی سند میں ، ایک راوی ابوبکر بن مہاجر ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6821
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالضِّيَافَةِ، وَيَنْهَى أَنْ تُحْتَلَبَ مَاشِيَةُ الرَّجُلِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا أَلْبَانُهَا كَمَا فِي حِقَابِكُمْ " . أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : " كَمَا فِي حُقُبِكُمْ لَيْسَ أَحَدُهُمَا بِأَحَلَّ مِنَ الْآخَرِ " . ¤ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِ مَسْتُورٌ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضیافت ( مہمان نوازی ) کا حکم دیتے تھے ، لیکن آپ اس بات سے منع کرتے تھے کہ آدمی کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ دوہ لیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے : ” ان کے دودھ کی مثال اسی طرح ہے ، جیسے تمہاری تھیلی میں ہو “ ۔ یا اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس طرح تمہاری تھیلی میں ہو ، ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حلال نہیں ہے “ ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہے اور امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس طرح تمہاری تھیلی میں ہو ، ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حلال نہیں ہے “ ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہے اور امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6822
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ سَارِحَةٍ وَرَائِحَةٍ عَلَى قَوْمٍ حَرَامٌ عَلَى غَيْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں کا ہر قسم کا جانور ، ان کے علاوہ کے لئے حرام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6823
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْتَفْتِيهِ فِي الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْهِ ، وَفِي الَّذِي يَحِلُّ لَهُ ، وَفِي نَتَجِهِ وَمَاشِيَتِهِ ، وَفِي عَنْزِهِ وَفَرْعِهِ مِنْ نَتَجِ إِبِلِهِ وَغَنَمِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحِلُّ لَكَ الطَّيِّبَاتُ وَتَحْرُمُ عَلَيْكَ الْخَبَائِثُ ، إِلَّا أَنْ تَفْتَقِرَ إِلَى طَعَامٍ لَا يَحِلُّ لَكَ فَتَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ " . ¤ وَإِنَّهُ سَأَلَهُ رَجُلٌ حِينَئِذٍ : مَا فَقْرِي ؟ وَمَا الَّذِي آكُلُ مِنْ ذَلِكَ إِذَا بَلَغْتُهُ ؟ وَمَا غِنَايَ الَّذِي يُغْنِينِي عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتَ تَرْجُو نَتَجًا فَتَبَلَّغْ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ إِلَى نَتَجِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو غَيْثًا مَدَرًا لَكَ فَتَبَلَّغْ إِلَيْهَا مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو مِيرَةً تَنَالُهَا فَتَبَلَّغْ مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ ، وَإِنْ كُنْتَ لَا تَرْجُو مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ فِيمَا بَدَا لَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ " . ¤ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مَا غِنَايَ الَّذِي أَدَعُهُ إِذَا وَجَدْتُهُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ غَبُوقًا مِنَ اللَّبَنِ فَاجْتَنِبْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ مِنَ الطَّعَامِ . وَأَمَّا مَالُكَ فَإِنَّهُ مَيْسُورٌ كُلُّهُ لَيْسَ فِيهِ حَرَامٌ غَيْرَ أَنَّ فِي نَتَجِكَ مِنْ إِبِلِكَ فَرَعًا ، وَفِي نَتَجِكَ مِنْ غَنَمِكَ فَرَعًا تَغْدُوهُ مَاشِيَتَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ ، ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَطْعَمْتَهُ أَهْلَكَ ، وَإِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ " . وَأَمَرَهُ بِعِتْرٍ مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ عَتِيرَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب ، رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دیہاتی شخص آپ کے پاس آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : اس نے اپنے مال ، اپنی قربانی ، اپنی جانوروں اور اپنی اونٹنیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں ، جنہیں فرع اور عتیرہ قرار دیا جاتا ہے اور ان جانوروں ، جو بانجھ ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں دریافت کیا کہ اس میں سے کیا چیز اس کے لئے حلال ہے اور کیا اس پر حرام ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور خبیث چیزیں تم پر حرام ہیں ، البتہ اگر تم کھانے کے محتاج ہو جاؤ ، تو معاملہ مختلف ہے ، وہ تمہارے لئے اس حد تک حلال ہو گا کہ تم اس میں سے کھا لو ، یہاں تک کہ اس سے بے نیاز ہو جاؤ ۔ اس وقت اس شخص نے آپ سے دریافت کیا : میری غربت سے مراد کیا ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے کہ جب میں اس تک پہنچ جاؤں گا ، تو میں ایسا کھانا کھا سکتا ہوں اور میری وہ خوشحالی کیا ہو گی ؟ جو مجھے اس سے بے نیاز کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں جانور کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی امید ہو تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس کی پیدائش تک پہنچ جاؤ یا تمہیں ایسے بادل کی امید ہو جو برسنے والا ہو ، تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس تک پہنچ جاؤ یا تمہیں مال کے فائدے کی امید ہو تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس تک پہنچ جاؤ اور اگر تمہیں اس میں سے کسی چیز کی امید نہیں ہوتی تو تمہیں جو مناسب لگے تو تم اپنے گھر والوں کو وہ کھلا دو یہاں تک کہ تم اس سے بے نیاز ہو جاؤ ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : میری وہ خوشحالی کیا ہے ؟ جب میں اسے پاؤں گا تو اس کو ترک کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : جب تم اپنے گھر والوں کو اچھی طرح دودھ پلا دو ، تو اس کھانے سے اجتناب کرو ، جو تم پر حرام قرار دیا گیا ہے ، جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے ، تو اس پورے میں سہولت پائی جاتی ہے ، جبکہ اس میں کوئی حرام چیز موجود نہ ہو ، البتہ اگر تمہارے اونٹنی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے یا تمہاری بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو تمہارا جانور اس بچے کو خوراک فراہم کرے گا ، یہاں تک کہ وہ بچہ بے نیاز ہو جائے ، پھر اگر تم چاہو تو اس بچے کا گوشت اپنے گھر والوں کو کھلاؤ اور اگر تم چاہو تو اس کا گوشت صدقہ کر دو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں میں سے ” عتر “ کے بارے میں اسے یہ حکم دیا کہ ہر سو میں ایک عتیرہ ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6824
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَضُرُّ أَحَدَكُمْ مَا يَسُدُّ بِهِ الْجُوعَ إِذَا أَصَابَ حَلَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کو یہ چیز نقصان نہیں دے گی ، جس کے ذریعے وہ بھوک کو ختم کر دے ، جبکہ اس نے حلال چیز کو حاصل کیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6825
وَعَنْ مِخْوَلٍ النَّهْدَيِّ ، ثُمَّ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ : نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ فَوَقَعَ فِي حَبْلٍ مِنْهَا ظَبْيٌ، فَانْقَلَبَ بِالْحَبْلِ ، فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ أَقَفُوهُ ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدِ اسْتَظَلَّ بِنِطْعٍ ، فَقَضَى بِهِ بَيْنَنَا شَطْرَيْنِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ حَبَائِلِي فِي رِجْلِهِ قَالَ : " هُوَ ذَاكَ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَأْتِي الْمَاءَ فَتَرِدُ عَلَيْنَا الْإِبِلُ وَهِيَ عِطَاشٌ ، فَنَسْقِيهَا مِنَ الْمَاءِ هَلْ لَنَا فِي ذَلِكَ أَجْرٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ؛ لَكَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْإِبِلُ الضَّوَالُ نَلْقَاهَا وَهِيَ مُصَرَّاةٌ وَنَحْنُ جِيَاعٌ ؟ قَالَ : " قُلْ : يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ . فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَحُلَّ صِرَارَهَا ، احْلُبْ وَاشْرَبْ ، وَأَعِدْ صِرَارَهَا ، وَأَبْقِ لِلَبَنِ دَوَاعِيَهُ " . ثُمَّ أَنْشَأَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ مَكَّةَ - تَأْكُلُ الشَّجَرَ ، وَتَرِدُ الْمِيَاهَ ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ سِلَائِهَا ، وَيَلْبَسُ مِنْ أَصْوَافِهَا - أَوْ قَالَ : مِنْ أَشْعَارِهَا - وَالْفِتَنُ تَرْتَهِشُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَالدِّمَاءُ تُسْفَكُ " . يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ وَأَقْرِ الضَّيْفَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ مَا زَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مخول نہدی ثم سلمی ، جنہیں زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام ، دونوں نصیب ہوئے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ” ابواء “ کے مقام پر جال لگایا ، ایک رسی میں ایک ہرن کا بچہ پھنس گیا ، وہ اس رسی کو لے کے چل پڑا ، میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ، تو میں نے ایک شخص کو پایا کہ اس نے اسے پکڑ لیا تھا ، اس ہرن کے بارے میں ہم دونوں کے درمیان اختلاف ہوا ، ہم نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ہم نے آپ کو پایا کہ ” ابواء “ کے مقام میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا اور چمڑے کے ذریعے آپ پر سایہ کیا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ ہم دونوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری رسی ہے ، جو اس جانور کے پاؤں میں موجود ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اسی طرح ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کسی پانی پر آتے ہیں ، وہاں ہمارے پاس اونٹ آ جاتے ہیں ، جو پیاسے ہوتے ہیں ، تو کیا ہم انہیں پانی پلا دیں ، اور کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تمہیں ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے کا اجر ملے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گم شدہ اونٹ ہمیں ملتے ہیں اور ان کے دودھ نہیں نکالا گیا ہوتا اور ہم بھوکے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ کہو : اے اونٹوں کے مالک ! اگر کوئی شخص آ جائے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ تم اس کے تھن کے اوپر سے کپڑا ہٹا دو ، دودھ دوہ کر اسے پی لو ، اور پھر وہاں کپڑا لگا دو ، اور دودھ کے لئے اس کے دوائی کو باقی رہنے دو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمانا شروع کیا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں سب سے بہتر مال وہ بکریاں ہوں گی ، جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی ، راوی کہتے ہیں : یعنی مدینہ اور مسجد مکہ کے درمیان ہوں گی ، وہ درخت کے پتے کھا لیں گی ، پانی پر آ جائیں گی ، ان کا مالک ان کے گوشت کو کھائے گا ، اور ان کی اون سے ( بنا ہوا لباس ) پہن لے گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے بالوں سے ( بنا ہوا لباس پہن لے گا ) اور عربوں کے درمیان فتنے گھوم رہے ہوں گے ، خون بہایا جا رہا ہو گا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم نماز قائم کرو ، تم زکوۃ ادا کرو ، تم حج اور عمرہ کرو ، اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ، صلہ رحمی کرو ، مہمان نوازی کرو ، نیکی کا حکم دو ، اور برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو ، جہاں بھی وہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6826
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ حَتَّى أَشْرَفَا عَلَى حَوَائِطَ ، فَإِذَا هُمْ بِتَمْرٍ فِي حَائِطٍ ، فَنَزَلَ أَحَدُهُمَا وَفَرِقَ الْآخَرُ ، فَأَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ جَعَلَ يَحْثِي فِي ثِيَابِهِ ، وَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَانْتَزَعَ ثَوْبَهُ وَأَوْثَقَهُ إِلَى نَخْلَةٍ ، وَأَخَذَ شَظِيَّةً فَأَوْجَعَهُ ضَرْبًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : وَجَدْتُ هَذَا فِي حَائِطِي أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ جَعَلَ يَحْثِي فِي ثِيَابِهِ . فَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبِي ، وَنَحْنُ جَائِعَانِ ، فَأَمَّا أَنَا فَنَزَلْتُ ، وَأَمَّا صَاحِبِي فَفَرِقَ، فَأَكَلْتُ وَأَخَذْتُ لِصَاحِبِي ، فَجَاءَ هَذَا فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ ثَوْبَهُ ، وَكِلْ لَهُ وَسْقًا مَكَانَ مَا ضَرَبْتَهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بھوک لاحق ہو گئی دو آدمی آئے ، انہوں نے ایک باغ کی دیوار سے جھانک کر دیکھا ، وہاں باغ میں کھجوروں کے درخت موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص دیوار پھیلانگ کر اندر آ گیا اور دوسرا ڈر گیا ، اندر آنے والے شخص نے کھجوریں کھانا شروع کیں ، جب وہ سیر ہو گیا ، تو اس نے اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنا شروع کر دیں ، باغ کا مالک آیا ، اس نے اس کا کپڑا اس سے چھین لیا اور اسے کھجور کے درخت کے ساتھ باندھ دیا اس نے ایک چھڑی لی اور اس نے اس کے ذریعے اس شخص کی پٹائی کی ، پھر وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، اس نے بتایا کہ میں نے اس شخص کو اپنے باغ میں پایا کہ یہ کھا رہا تھا ، جب یہ سیر ہو گیا ، تو اس نے اپنے کپڑے میں کھجوریں انھی کرنی شروع کر دیں ، اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اور میرا ساتھی آئے تھے ، اور ہم دونوں بھوکے تھے ، میں تو باغ کے اندر اتر گیا تھا اور میرا ساتھی ڈر گیا تھا ، میں نے کھجوریں کھا لیں اور اپنے ساتھی کے لئے لی تھیں ، لیکن پھر یہ شخص آیا اور اس نے میرے ساتھ یہ ، یہ سلوک کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! اور اس کا کپڑا اسے دو اور اسے ایک وسق ماپ کر دو ، اس چیز کی جگہ جو تم نے اس کی پٹائی کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے بھی ایک حدیث نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ، جسے ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ، جسے ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔